یہ محبت ہے تو پھر تجھ سے بہت ہے مجھ کو
Poet: ندؔیم مراد By: NADEEM MURAD, Pietermaritzburgتم نے پوچھا ہے کہ "کیا مجھ کو ہے الفت تم سے؟ "
کیا خبر مجھ کو میری جان! کہ الفت کیا ہے
ہاں مگر جب بھی یونہی تیرا خیال آتا ہے
دل دھڑک اٹھتا ہے آنکھوں میں نمی آ جائے
اور تری یادوں میں رہتا ہوں میں پھر گم سم سا
تیرا احساس ہو آسودگئی قلب و نظر
تیری آواز ہو رس گھولتا سرگم جیسے
تیری تصویر منقش ہو مری آنکھوں میں
کیا یہ الفت ہے وہی جس کا ہے پوچھا تم نے
یہ محبت ہے تو پھر تجھ سے بہت ہے مجھ کو
ہے یہ گر عشق تو پھر میں بڑا سچا عاشق
یہ جنوں ہے تو میں پھر قیس کے مسلک
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






