Aaiiye Haath Uthaaye.N Ham Bhii
Poet: faiz ahmad By: amy, fsdAaiiye Haath Uthaaye.N Ham Bhii
Ham Jinhe.N Rasm-E-Dua Yaad Nahii.N
Ham Ji.Nhe.N Soz-E-Mohabbat Ke Siwaa
Koii But, Koii Khudaa Yaad Nahii.N
Aaiiye Arz Guzare.N Ki Nigaar-E-Hastii
Zahar-E-Imaroz Me.N Shiiriinii-E-Fardaa.N Bhar De
Wo Ji.Nhe.N Tabe Garaa.Nbaarii-E-Ayyaam Nahii.N
Unakii Palako.N Pe Shab-O-Roz Ko Halkaa Kar De
inakii Aa.Nkho.N Ko Rukh-E-Subh Kaa Yaaraa Bhii Nahii.N
Unakii Raato.N Me.N Koii Shamaa Munawwar Kar De
Jinake Qadamo.N Ko Kisii Rah Kaa Sahaaraa Bhii Nahii.N
Unakii Nazaro.N Pe Koii Raah Ujaagar Kar De
Jinakaa Dii.N Pairavii-E-Kazbo-Riyaa Hai Unako
Himmat-E-Kufr Mile, Jurat-E-Tahaqiiq Mile
Jinake Sar Mu.Ntazir-E-Teg-E-Jafaa Hai.N Unako
Dast-E-Qatil Ko Jhatak Dene Kii Taufiiq Mile
Ishq Kaa Sarr-E-Nihaa.N Jaan-Tapaa.N Hai Jis Se
Aaj Iqaraar Kare.N Aur Tapish Mit Jaaye
Harf-E-Haq Dil Me.N Khatakataa Hai Jo Ka.Nte Kii Tarah
Aaj Izahaar Kare.N Or Khalish Mit Jaaye
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






