Acha Lagta Hai Mujhy ,
Poet: Minhas king By: Farasat ali, LahoreChoti Choti Baton Py Takraar Kr K Minhas,
Yun Hi Besbab Us Ka Ruthna Acha Lgta Hai Mujhy,
Kahan Thy Kiun Dair Sy Laoty Ho,Sbab Kya Hai Akhr,
Shki Lehjy Mein Us Ka Bar Bar Puchna Acha Lgta Hai Mujhy,
Bdly Bdly Sy Lagty Ho Mujhy Tum Aaj Kal,Akhr Bat Kya Hai?
Mujhy Kho Dyne K Dr Sy Us Ka Yun Sochna Acha Lgta Hai Mujhy,
Larrty Larrty Shrart Mein,Mery Seeny Py Baith Kar,
Ahsta Sy Mery Balo,N Ko, Us Ka Yun Nochna Acha Lagta Hai Mujhy,
Tanhai K Lamho,N Mein Aksr Bechaini Sy Album Ulat Palt Kar ,
Us Ka Yun Tasveeryn Meri Dhundna Acha Lgta Hai Mujhy,
Mery Kahin Ruth Kar Jany Par,Mery Doston Sy Lmha Ba Lmha,
Tarp Tarp Kr Mery Bary Mein Us Ka Puchna Acha Lgta Hai Mujhy,
Meri Ankhun Sy Ashk Behty Daikh Kr,Anchl Sy Kbi Poro,N Sy,
Beikhtyar Us Ka Anso,N Mery P0onchna Acha Lagta Hai Mujhy,
Pher Sab Koch Bhula Kr,Hathaili Py Chehra Tikaa Kar Minhas,
Dair Tlk Ek Dusry Ki Nigaho,N Mein Jankna Acha Lgta Hai Mujhy.
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






