Poetries by adeel ashraf shuja
بندہ حقیر میں تیرے لیے بندئہ حقیر ہوں
بھلے ہی عشق کی تفسیر ہوں
مجھ کو چڑھا دو سو لی پہ
بھلا میں کیوں بے نظیر ہوں
مجھ کو معرکے ہیں کئی درپیش
میں سچے خواب کی تعبیر ہوں
ہر کو ئی روندھتا ہے مجھے
گویا یک لاوارث جا گیر ہوں
اس کی روایت ہے دل توڑنا
اور میں پہلے ہی دلگیر ہوں
تم رہ سکتے ہو تو رہو مگر
عدیل میں تو صرف راہگیر ہوں adeel ashraf shuja
بھلے ہی عشق کی تفسیر ہوں
مجھ کو چڑھا دو سو لی پہ
بھلا میں کیوں بے نظیر ہوں
مجھ کو معرکے ہیں کئی درپیش
میں سچے خواب کی تعبیر ہوں
ہر کو ئی روندھتا ہے مجھے
گویا یک لاوارث جا گیر ہوں
اس کی روایت ہے دل توڑنا
اور میں پہلے ہی دلگیر ہوں
تم رہ سکتے ہو تو رہو مگر
عدیل میں تو صرف راہگیر ہوں adeel ashraf shuja
معافی میرے دہن میں ز باں دے دے
اور دعا کی ہمت یزداں دے دے
لذت گناہ کی لذت کیوں ہے
ہوس کو جام وجداں دے دے
ہوں تقصیریں معاف میری بھی
بس مجھ کو یہ گماں دے دے
میں شاید بھول گیا ازل کو
کان میں کن کی اذاں دے دے
جس میں صرف تو اور میں رہیں
مجھ کو ایسا مکاں دے دے
جو بدل دے دل کی سیاہی کو
پھر وہ قوت بیاں دے دے
اس نفس کے ننگے خنجر سے
عدیل کو تو اماں دے دے adeel ashraf shuja
اور دعا کی ہمت یزداں دے دے
لذت گناہ کی لذت کیوں ہے
ہوس کو جام وجداں دے دے
ہوں تقصیریں معاف میری بھی
بس مجھ کو یہ گماں دے دے
میں شاید بھول گیا ازل کو
کان میں کن کی اذاں دے دے
جس میں صرف تو اور میں رہیں
مجھ کو ایسا مکاں دے دے
جو بدل دے دل کی سیاہی کو
پھر وہ قوت بیاں دے دے
اس نفس کے ننگے خنجر سے
عدیل کو تو اماں دے دے adeel ashraf shuja