Aik Aansu Meri Palkon Pe
Poet: By: huma, rwpAik Aansu Meri Palkon Pe Numanyan Hi Sahi
Laog Kehtay Hain Charaghaan To Charaghaan Hi Sahi
Hum Ne Har Daor Mein Raaton Se Baghawat Ki Thi
Aaj Pabandi-E-Aaien Shabistaan Hi Sahi
Meri Taqdeer Mein Phoolon Ka Tassawur Bhe Mahal
Koi Gulshan Bakaf-O-Khuld Badamaan Hi Sahi
Mujh Pe Jo Beet Gai Beet Gai Beet Gai
Meri Hasrat Teray Chehray Se Numayan Hi Sahi
Mar.Ghaton Per Nai Bunyaad-E-Makan Rakhain Gai
Kar-E-Tehzeeb Raqeeb-E-Ser-O-Samaan Hi Sahi
Kitni Aankhain Huien Be Nar Tujhay Kiya Maloom
Kar-E-Nazarah Teri Bazm Mein Asaan Hi Sahi
Jabr Ke Zulm Laye Huway San.Natay Mein
Koi Shorsh Koi Halchal Koi Toofaan Hi Sahi
Yeah Bhe Kya Kam Hai Ke Hum Chonktay Hain Jagtay Hain
Zindegi Silsila-E-Khuwaab Perishaan Hi Sahi
Bhairriyon Ko Nah Yeah Tareekh Khula Choray Gi
Bhairriye Asmat-E-Aadam Ke Nigehbaan Hi Sahi
Zulm Har Rang Mein Pehchaan Liya Jaye Ga
Tera Daman Hi Sahi Mera Girebaan Hi Sahi
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






