Allah Ka Deen Or Mullah Ka Deen
Poet: Purki By: M.hasan, KarachiAllah Ka Deen Diloo Ko Joorta Hey
Mulla Ka Deen Diloo Ko Toorta Hey
Allah Ka Deen Ittahad Ka Hukm Deta He
Mulla Ka Deen Intishaar Ko Nemat Samajta Hey
Allah Ka Deen Mujrimoo Ko Fansi Pr Charaya Hey
Mulla Ka Deen Apney Mukhalifoo Ko Fasata Hey
Allah Ka Gar Amno Salamati Ka Gar Hey
Mulla Ka Gar Fitna Wo Fasad Ka Gharh Hey
Allah Waloo Ka Pait Khali Khali Lagta Hey
Mulla Ka Pait Masjid Ka Qubbah Lagta Hey
Allah Fitna Wo Fasad Ko Hergiz Pasand Nahi Karta
Jub K Mulla Ki Ye Marghoob Giza Hey
Mulla Apney Ilawa Sb Ko Dozakh Mei Dalta Hey
Allah Her Ba- Kirdaar Ko Dozakh Se Bachata Hey
Allah Rabbal Aalameen Hey
Mulla Gussatul Lilaalameen Hey
Allah Ka Nabi Rahmatul Lil Aalameen Hey
Jub K Mulla Fitnatul Lil Aalameen Hey
Allah Ka Deen Insanoo Ko Kirdaar Ki Kasooti Pr Parakhta Hey
Mulla Ka Deen Insanoo Ko Dolat Ki Kasooti Pr Parakhta Hey
Allah Zalimoo Ka Dost Nahi Hey
Jub K Mulla Zalimoo Ka Dost Hey
Allah K Dastarkhwan Pr Mazlomoo Ka Raaj Hota Hey
Mulla K Dastarkhwan Pr Thana-Daroo Ka Raaj Hota Hey
Allah Ka Deen Rushd-O-Hidayat Ki Kaan Hey
Mulla Ka Deen Fatwey Ki Dukan Hey
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا






