BILLY (James Blunt)
Poet: Arham Shafiq By: Arham Shafiq, Karachi"BILLY"
(Written by ‘Arham Shafiq’)
For: “James Blunt”
Billy, I love the way you play guitar...
Like the way your green eyes shine...
I wanna follow your footsteps…
Wanna talk about your lifestyle…
And wanna walk on that line...
My blue eyes shine...
And I feel pleasure,
When I see u shining in the bright light...
I feel proud,
When I see journalists hanging around you all the time...
When u dawn beautifully,
Bright my world like crystal stars...
I feel high...
When u sing rhapsody for my deserted heart...
Oh Billy...!
I see thousands around u, applaud...
Can't control their emotions...
Beg for more light…
‘Cause you enlightened their spotty hearts...
And all the papers say,
"TIDWORTH created a superstar"
And Billy you live on the stars...
That dances every night...
And make us feel so joyous...
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






