Chaht Ka Kaffan
Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, Trabu Canyon - USADear Likhoon Ya Jaan Likhoon En Batoon Mien Kya Faraq Hay
Ye Sab Hein Naam Teray En Ku Kyoon Nahi Kabhi Samjha Tu Nay
Waqt Badal Ta Hay Tu Badal Tee Hay Nazar Zamnay Kee
Apnay App Mere Le Ye Ku Kyoon Nahi Kabhi Badla Tu Nay
Tum Tu Khatay Hu Mien Peeta Hoon Mujhay Hoosh Nahi
Madhoshi Ku Meri Kyoon Nahi Kabhi Smajha Tu Nay
Ratoon Mein Yadoon Kay Teri Chiragh Jalata Hoon
Kon Jalta Hay En Mein Ye Kyoon Nahi Kabhi Samjah Tu Nay
Karwatien Badal Badal Kar Har Raat Bistar Pe Kaaat Ta Hoon Mein
Chader Ke Lakiroon Pay Kya Likha Hay Kyoon Nahi Kabhi Parha Tu Nay
Chand Ke Manid Hoon Sahar Hutay Roshni Khatam Hu Jati Hay Meri
Andharoon Ku Meray Kyoon Nahi Kabhi Samjha Tu Nay
Samandar Es Par Akela Mein Tu Os Par Kush Betha Hay
Fsloon Ka Dard Mera Kyoon Nahi Kabhi Smajah Tu Nay
Nayya Zindagi Kee Beech Samandar Mein Dabu Kar Dekha
Meri Gherahie-Mohabat Mein Doob Kar Kyoon Nahi Kabhi Dekha Tu Nay
Ankhoon Say Ashk Baha Baha Kar Khoon-E-Dil Nechor Dala
Meray Sookhay Badan Pe Likhi Meri Dastaanku Kyoon Nahi Kabhi Parha Tu Nay
Galliuon Mein Teri Durrani Ka Janaza Para Hay Bay Guro Kafan
Teri Chahat Ka Kafan Ourh Lay Gein Kyoon Nahi Kabhi Socha Tuy Nay
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






