Chalo Abb Lot Aao
Poet: Mohsin Naqvi By: وشمہ خان, ماسکوSuno Tum Ne Kaha Tha Na
Mjhy Jazb-E-Muhbt Say Kabhi Jo Tum Pukaro Gi
Main Uss Din Lot Aaon Ga
To Daikho Na
Kai Lamhon
Kai Salon
Kai Sadiyon
Se Tera Rasta Takti
Yeh Meri Muntzar Ankhain
Mere Dil Ki Ye Dharkan Aur Sansain
Bus Tumhara Naam Laiti Hain
Wohi Ik Wird Karti Hain
Meri Ankhon K Sahil Par
Teri Khwahish Ki Mojoan Ne
Bari Halchal Mchai Hai
Teri Tasveer,Sookhay Phool Aur Tohfay
Teri Chahat Ki Khushbu Main
Abhi Takk Sans Laitay Hain
Woh Sabb Rastay K Jin Par Tum Hmaray Sath Chaltay Thay
Woh Sabb Rastay Jahan Teri Hansi K Phool Khiltay Thay
Jahan Pairhon Ki Shakhon Par
Hum Apna Naam Likhtay Thay
Udasi Say Bharay Manzar
Tumharay Lot Kar Anay Ki Umeedain Dilatay Hain
Suno Kuch Bhi Nahi Badla
Tumharay Paaun Ki Awaz Sun’nay Ki
Mere Kamray Ki Bai Tarteeb Chezain Muntazir Hain
Suno!!!
Takmeel Paati Chahton Ko Yun Adhoora To Nahi Choro
Mujhay Matt Azmao Tum
Chalo Abb Lot Aao Tum
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






