Chaly Gay....
Poet: Shahid Mehmood By: Shahid Mehmood, RawalpindiYe Kaha Hy Tm Sy Ks Ny Wo Bewafa Thy Hmain Chorr K Chaly Gy
Ho Gi Koi Majbori Jo Youn Munh Morr K Chaly Gy
Dasateer E Ishq Ka Rakha Hy Pas Unhon Ny
Hm Ny Kb Socha Hamary Khawbon K Mahallat Torr K Chaly Gy
Shayed Na Thy Wo Hmari Tarah Tanhaiyon K Aadi
Wo Jo Youn Sar E Sham Hmain Chorr K Chaly Gy
Ujaarra To Kuch Youn Ujaarra Unhon Ny Nasheman Hmara
Jesy Jaty Hway Prindy Ghonsly Torr K Chaly Gy
Hm Ny Sun Rkha Hy Sham Ko Loty Subah Ka Bhoola, Bhoola Nhe Hota
Wo To Aesy Bhooly K Sari Kahawaten Bhool K Chaly Gy
Jana Hi Tha To Liyay Jaty Apni Yaden Bhi Sath Apny
Kon Marta Hy Bina Ksi K Wo Yeh Bol K Chaly Gy
Na Wo Jaty Gar Muskra K Hum Sy Youn Door
Hm Bta Hi Dety Kesy Wo Hmain Torr K Chaly Gy
Kehti Hy Meri Maan Bary Zidi Ho Bachpan Sy
Kyun Na Ki Zid? Wo Tmhain Chorr K Chaly Gy
Samjha Tha Unhon Ny Hmain Shayed, Apna Isi Liyay
Bachon Ki Tarah Apni Hi Cheezen Torr K Chaly Gy
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






