Dil Hai Mera Maqaam-E-Gham
Poet: Akhtar Sheerani By: Anjan Bilal , Srinagar (J&K)Dil Hai Mera Maqaam-E-Gham, Gham Ka Maqaam Hai Yahaan
Naa’la-E-Subah Hai Yahaan, Giriyaa-E-Shaam Hai Yahaan
Ek Tasawwur-E-Haseen Khilwat-E-Dil Mein Hai Makeen
Deeda-E-Shauq Ke Liye Deed Haraam Hai Yahaan
Nikhat-E-Noor-O-Naar Udhar, Zulmat-O-Soz-O-Saaz Idhar
Subah Hi Subah Hai Wahaan, Shaam Hi Shaam Hai Yahaan
Sahan-E-Chaman Mein Har Jagah Nash’sha Sa Failne Lagaa
Aaj Yah Kaun Mahalaqaa Mast-E-Khiraam Hai Yahaan
Mera Alam’kada Nahin Rang-E-Tarab Se Aashna
Fasl-E-Khijaan Ho Ya Bahaar, Maatam-E-Aam Hai Yahaan
Unke Liye Suroor-E-Naaz, Mere Liye Gham-O-Gudaaz
Gardish-E-Chashm Hai Wahaan, Gardish-E-Jaam Hai Yahaan
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






