Dil Humara Bohat Dukhaya Hay
Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, Trabuco CanyonDil Humara Bohat Dukhaya Hay
Char Qadam Tu Dushman Bhi Saath Chaltay Hien Tum Se Du Bhi Chala Na Gaya
Apni Dunya Ke Nakhlistaan Me Chan Se Bas Raha Tha Kahien
Ishiq Ke Sehrah Me La Kar Humein Tum Ne Jhulsaya Hay
Adab-E-Mohabat Ke Na Ashanayee Ke Sabab
Pyaar Ke Dastoor Ne Tumaharay Mujrim Humein Tahraya Hay
Tumari Be Rukhi Kahien Ka Ab Na Choray Gee Humein
Badlay Me Peyaar Ke Dil Humara Bohat Tum Ne Dukhaya Hay
Nayya Plat Gayee Pyaar Ke Samandar Main Safar Pe Nikal Ne Se Phelay
Lehroon Ne Tufaan Sahil Pe Tumaree Tarhaan Utha Ya Hay
Prindoon Ke Tarhaan Apnay Ghoslay Ka Rasta Hum Nahi Bholay
Lot Kar Aye Tu Raakh Ka Dher Osay Hum Ne Paya Hay
Tinka Tinka Chun Kar Ju Ashyana Hum Ne Baya Tha
Ek Ek Karkay Har Tinka Tum Ne Jalaya Hay
Humein Buzdil Na Kahu Kumzoron Me Bhi Bohat Jaan Huti Hay
Kachay Dhagoon Se Bahadroon Ne Dil O Jigar Apna Silwaya Hay
Darta Hoon Kisee Se Pyaar Karo Aur Bikhar Na Jou Tum
Sach Tu Ye Hay Tareekh Ne Hamesha Apnay Ku Duhraya Hay
Dam Ghutnay Ku He Chand Ghari Paas Akay Dekhu Tu Zara
Akhri Sansson Me Durrani Ne En Me Kaisay Tumay Basaya Hay
Kutbay Pay Naam Na Likh Na Kahien Ahsaas-E-Wajood Humra Hu Un Ku
Safhay-E-Hasti Se Khud Ka Naam O Nishaan Mitanay Ka Bera Jin Ke Leye Uthaya Hay
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







