Dr Afia Siddiqui

Poet: Dr.M.Moazzam Akhlaq By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHI

اس چمن رنگ و نور کے ہیں دعویدار ہم
کلی کو چٹک، گل کو بُو نہ دیں اتنے بیکار ہیں ہم

کس سمت سے چلی ہے آ ج یہ ہوائے دلگیر
سن رہے ہیں دور سے اک پنچھی کی پکار ہم

اپنے آنگن کی حسیں تتلی کو یہ کس نے بیچ ڈالا
اغیار جس سے کھیلیں اور محو تماشہ پس دیوار ہم

پھر کسی قاسم کی منتظر لگتی ہے دختر حوا
اسے کیا معلوم کہ نہیں رہے اب باکردار ہم

جاکے کوئی اس سے اتنا کہہ دے کہ اے بہن
اپنے ضمیر پہ ماتم کدہ اور تیرے غمخوار ہیں ہم

ہم دونوں کی یہ سزا کچھ مختلف تو نہیں
تو جگر گوشوں کے لیئے دو نیم، تیرے غم خوار ہم

آئے گی اک روز وہ تنویر صبح جمال دیکھنا
کہ جس کا سپنا دیکھا کئے لیل و نہار ہم

Rate it:
Views: 2741
02 Mar, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL