میں اپنے آپ میں نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں اپنے آپ میں رہ کر بھی اپنے آپ میں نہیں
مگر یہ بھی نہیں کہ بالکل ہی اپنے آپ میں نہیں
اچانک شام کے سائے کبھی دن کے کسی پہر
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
شب کے اندھیروں میں کبھی دن کے اجالوں میں
یہی محسوس ہوتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میری تنہائی میں اکثر ہیولہ سا ابھرتا ہے
جو میرے روبرو رہتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے میرا وجود میرا ہے
مگر اس میں بھٹکتی روح اپنے آپ میں نہیں
خدا جانے یہ کیا احساس ہے کیسا تخیل ہے
کہ مجھ میں اور کوئی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میرے اور اس کے درمیاں کوئی دیوار حائل ہے
میں یہاں ہوں میرا سایہ ہی اپنے آپ میں نہیں
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میرا کلبوت خالی ہے
میرا وجود خالی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
کہیں پر بھی چلے جائیں لوٹ کے گھر کو آنا ہے
کہاں تک کوئی رہ سکتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے عظمٰی اچھوتی سی کہانی وہ سناتا ہے
کوئی اس وقت آ کر جب میں اپنے آپ میں نہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






