میں اپنے آپ میں نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں اپنے آپ میں رہ کر بھی اپنے آپ میں نہیں
مگر یہ بھی نہیں کہ بالکل ہی اپنے آپ میں نہیں
اچانک شام کے سائے کبھی دن کے کسی پہر
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
شب کے اندھیروں میں کبھی دن کے اجالوں میں
یہی محسوس ہوتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میری تنہائی میں اکثر ہیولہ سا ابھرتا ہے
جو میرے روبرو رہتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے میرا وجود میرا ہے
مگر اس میں بھٹکتی روح اپنے آپ میں نہیں
خدا جانے یہ کیا احساس ہے کیسا تخیل ہے
کہ مجھ میں اور کوئی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میرے اور اس کے درمیاں کوئی دیوار حائل ہے
میں یہاں ہوں میرا سایہ ہی اپنے آپ میں نہیں
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میرا کلبوت خالی ہے
میرا وجود خالی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
کہیں پر بھی چلے جائیں لوٹ کے گھر کو آنا ہے
کہاں تک کوئی رہ سکتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے عظمٰی اچھوتی سی کہانی وہ سناتا ہے
کوئی اس وقت آ کر جب میں اپنے آپ میں نہیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






