میں اپنے آپ میں نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں اپنے آپ میں رہ کر بھی اپنے آپ میں نہیں
مگر یہ بھی نہیں کہ بالکل ہی اپنے آپ میں نہیں
اچانک شام کے سائے کبھی دن کے کسی پہر
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
شب کے اندھیروں میں کبھی دن کے اجالوں میں
یہی محسوس ہوتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میری تنہائی میں اکثر ہیولہ سا ابھرتا ہے
جو میرے روبرو رہتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے میرا وجود میرا ہے
مگر اس میں بھٹکتی روح اپنے آپ میں نہیں
خدا جانے یہ کیا احساس ہے کیسا تخیل ہے
کہ مجھ میں اور کوئی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میرے اور اس کے درمیاں کوئی دیوار حائل ہے
میں یہاں ہوں میرا سایہ ہی اپنے آپ میں نہیں
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میرا کلبوت خالی ہے
میرا وجود خالی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
کہیں پر بھی چلے جائیں لوٹ کے گھر کو آنا ہے
کہاں تک کوئی رہ سکتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے عظمٰی اچھوتی سی کہانی وہ سناتا ہے
کوئی اس وقت آ کر جب میں اپنے آپ میں نہیں
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






