Ek Masoom Si Larki Thi

Poet: Smile Pain By: Smile Pain, jehlum

Ek Pyar Say Bhara Dil Tha
Jis K Armano Ko Palko Par Sajaya Karti Thi
Ek Masoom Si Larki Thi
Mohabbat K Khawab Dekha Karti Thi

Ek Chahra Bana Kar Khayalon May
Phir Us Chahray Ko Bheer May Dhoonda Karti Thi
Kaisi Pagal Larki Thi
Ek Khayal Ko Dhoonda Karti Thi

Aksar Banati Rait Kay Mahal Sahilo Par
Phir Un Mahlon May Ghar Apna Basaya Karti Thi
Kaisi Nadan Larki Thi
Sahil Ki Matti Say Ghar Banaya Karti Thi

Kai Bar Dekha Usay Phoolon Say Batain Kartay
Kuch Kah Kar Un K Kaano May
Khud Hi Sharmaya Karti Thi
Kaisi Ek Larki Thi
Phoolon Say Bi Sharmaya Karti Thi

Likh Kar Hatheli Par Koi Nam Humesha
Phir Us Nam Ko Mitaya Karti Thi
Shayed Na Samajh Hi Thi
Dil Par Likha Tha Jo
Usay Hathon Say Mitaya Karti Thi

Janay Kahan Kho Gay Woh
Ab To Aksar Ainay May Dhoonda Karti Hun
Woh Larki Jo Aina Dekh Be Wajah Muskraya Karti Thi
Bana Kar Ajeeb Say Chahray
Sub Ko Hansaya Karti Thi
Bari Ajeeb Larki Thi
Har Kisi Ko Sataya Karti Thi

Mohabbat Nay Hi Tor Diye
Us Kay Sub Armaan
Jinhay Woh Baray Pyar Say
Palkon Par Sajaya Karti Yhi
Shahyed Dunya Bi Bhool Jaye Usay
Par Waqt Na Bhula Paye Ga
K Ek Masoom Si Larki Thi
Khawabo K Shahar May Raha Karti Thi

Rate it:
Views: 5643
22 Feb, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL