Gham Mila To Roo Naa Sakai
Poet: Majid Mahmood By: Majid Mahmood, islamabad/rawalpindi/doha qatarGham Mila To Roo Naa Sakai
Khushi Mili To Hans Na Sakai
Yeh Kaisa Raaz Hai Zindigi Ka
Hum Jisey Samaj Na Sakai
Jis Ko Chaha,Apna Na Bana Sakai
Aap Chalai Gai, Phir Bhi Dil Se Nikall Na Sakai
Par Jab Aap Thai, Pass Bhi Na Aa Sakai.
Ab Aapki Yaadon Ko Seenai Se Lagaa K Phirthey Hain
Saamne Aap Ko Paa Kar Bhi Galey Na Lagaa Sakai,
Yeh Kaisa Raaz Hai Zindigi Ka, Hum Na Samajh Sakai
Jiss Ko Chaha Apna Na Bana Sakai
Abb Palkoon Ko Band Karr K Pal Main Aap K Pass Hote Hain
Magar Jab Aankhon K Saamne Thai
Jee Bharr K Dekh Bhi Na Sakai
Dil Dard Se Bharaa Huaa Tha Lekin Roo Naa Sakai
Yeh Kaisa Raaz Hai Zindigi Ka
Hum Jisey Samaj Na Sakai
Na Chup Reh Sakai Na Pyar Jataa Sakai
Abb Aap K Saath K Liyai Harr Pall Tarhaptai Hain
Magar Jab Aap Tarhap Rahai Thai To Saath Na Dai Sakai
Dil To Rotaa Rahai Par Aankhain Aansoo Na Bahaain
Pyar K Iss Riwaaj Ko Na Samajh Sakai
Dostoon Main Hokar Hum Kho Jaatai Hain
Woh Kehtai Hain Hum Tanha Hain
Par Hum Kehtai Hain Hum Saath Hain
Yeh Tanhaai Main Saath Ko Koi Samajh Nahi Sakta
Meri Iss Zindigi K Raaz Ko Koi Na Jaan Sakai
Dil Itne Dard Seh Kar Bhi Aap Hi Ko Chahta Kyon Hai
Hum Iss Paheeli Ko Aaj Tak Samajh Na Sakai
Aap K Laakh Inkaaron Ke Baad Bhi
Aap Humare Nahin Hain Yeh Dil Ko Samjha Na Sakai
Laakh Chaha Humne Phir Bhi Aapko Bhula Na Sakai
Jaise Din Maheenai Hogai
Aap Humain Bhool Gai Magar Hum Na Bhool Sakai
Jaise Khuwaab Zindigi Zindigi Khuwaab Na Ho Sakai
Jaise Aap Hamare Nahi Ho Saktai
Waise Hi Hum Kisi Orr K Nahi Hosakte
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






