Haal_E_Dil Tum Ko Sunaaty Tou

Poet: Hafeez Darban By: Hafeez Darban, Hyderabad sindh

Haal_E_Dil Tum Ko Sunaaty Tou Hum Bicharr Jaty
Aaj Agr Kuch Bhi Bataty Tou Hum Bicharr Jaty

Routhna Tha Tou Na Logoun Me Youn Ruswaa Krte
Saam'ney Sub K Manaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Tum Naraaz Tha Mujh Se Mein Tum Se Tha
Ab Ky Tum Na Manaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Dair Tk Batain Teri Hum Ko Sazaa Daiti Rhein
Teraa Rawayaa Na Bhulaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Mujhe Malum He Tum Ko Koi Kiyaas Nhi
Tum Ko Ehsaas Dilaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Kabhi Kabhi Tou Meri Baat Ko Sunna Bhi Kro
Tum Se Apni Chalaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Tou Ne Ruswaa Kia He Mujh Ko Saari Dunia Mein
Kisi Ko Kuch Bhi Bataaty Tou Hum Bicharr Jaty

Pyaar Mera Tha Sheeshy Ki Trha Pathr Tum
Jo Kabi Hum Jo Takraaty Tou Hm Bicharr Jaty

Tum Tou Sub Se Gillaa Meri Piyaa Krte Ho
Teri Mehfil Mein Jo Aaty Tou Hum Bicharr Jaty

Kitna Sahty Bhalla Tere Zulm Tere Situm
Ek Kad'm Pechey Hataaty Tou Hum Bicharr Jaty

Teri Aankhun Ne Madhoush Kia Saari Umer
Jaam Ko Hath Lagaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Zamaany Bhar Ki Nigaah Tum Pe Tikie Rhti Hy
Tere Pass Jo Aaty Tou Hum Bicharr Jaty

Ab Tou Aad't See Hougai He Dukh Ko Sahnaa
Tum Mujhe Ab Na Sataaty Tou Hm Bicharr Jaty

Hm Bhulla Na Chahain Bhi Tou Kahan Bhulla Paty " Hafeez"
Ek Pal Tum Ko Bhullaaty Tou Hum Bicharr Jaty

Rate it:
Views: 498
09 Nov, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL