Hum Safar
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskna), HaripurTumhara Nam Kuch Aisy Mery Honthon Pe Khilta Hai
Andhaire Rat Main Jaisy
Ichanak Chand Badal K Ksi Kony Se Bahir Jhankta Hai
Aur Sary Mnzron Main Roshni Se Phail Jati Hai
Kali Jaisy, Lrzti Os K Kutry Pehn Kr Muskrati Hai
Bdlti Rut, Ksi Manos Se Ahat Ki Dali Lai K Chalti Hai
To Khushboo Bagh Ki Daiwar Se Roky Nahin Rukti
Isi Khushboo K Dhagy Se Mera Hr Chak Silta Hai
Tmary Nam Ka Tara Meri Sanson Main Khilta Hai
Tmain Main Daikhta Hoon Jb Sfr Ki Sham Se Pehly
Ksi Uljhe Hue Gumnam Se Chinta K Jado Main!
Ksi Sochy Huy Bainam Se Lumhy Ki Khushboo Main
Ksi Mosm K Damn Main, Ksi Khwahish K Pehlon Main
To Is Khush Rng Mnzr Main Tmari Yad Ka Rasta
Najany Kis Trf Se Phoot'ta Hai
Or Phr Aisy Meri Hr Rah K Hmrah Chulta Hai
K Ankkhon Main Sitaron Ki Gzr Gahain Se Bnti Hain
Dhunk Ki Kehkshaon Se
Tmary Nam Ki In Khush Nma Hrfon Main Dhlti Hain
K Jin K Lms Se Honthon Pe Jugnoon Ruks Krty Hain
Tmary Khwab Ka Rishta Meri Nenndon Se Milta Hai
To Dil Abad Hota Hai
Mera Hr Chak Silta Hai
Tmary Nam Ka Tara Meri Raton Main Khilta Hai
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






