Hutta Hay Tamasha Meray Agay
Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, Trabuco CanyonSaray Chaman Pe Dhuhien Ka Kala Badal Cha Ya Hay
Zaror Kisee Bulbul Ka Ghar Jala Huga
Keeray Makoroon Ka Darkht Talay Jhamghtta Laga Hay
Zaror Ghonslay Say Laghat-E-Jigar Kisee Ka Gira Huga
Dar Dar Jakay Loog Chanda Akhata Karnay Lagay Hien
Zaror Janaza Be Goro Kafan Kisee Ka Para Huga
Khoon Me Nehlayee Lashoon Ka Dher Achanak Shaher Me Lag Gaya
Zaror Jahannumi Khud Kash Hamla Awar Yahaan Akar Phata Huga
Azaanien Sari Masjidoon Se Ek Saath Sirf Es Waqt Arahi Hien
Zaror Jhatka Zalzalay Ka Saray Mulloun Ku Makeenoon Ke Saath Laga Huga
Gali Ke Khambay Pe Be Saro Samaan Lash Latak Rahi Hay
Zaror Be Roz Gar Nojawaan Ne Ahtejajan Khud Ku Phanda Laga Ge Mra Huga
Lasha Palang Pe Daal Ke Pur Zoor Ahtejaaj Hu Raha Hay
Zaror Thanay Me Kisee Be Gunah Ku Police Ne Qatal Kara Huga
Haywanyat Insanyat Ke Samay Shransar Ashkbar Hu Gayee
Zaror Darnda Sift Baap Ne Beti Ku Khud Apnay Hath Se Zibah Kra Huga
Khali Haath Lot Ke Sab Preshaan Charay Leye Gahr Aye Hien
Zaror Sar-E-Aam Luteroon Ke Hathoon Har Kui Luta Huga
Talay Dars Ghahoon Pe Mudat Se Paray Hien
Zaror Masoom Tulba Ka Zalimoon Ne Chalni Jigar Kra Huga
Mehboob Bhari Dunya Me Tunha Bilakta Hee Reh Gaya
Zaror Ashiq Smaaj Ke Hathoon Suli Pe Charha Huga
Zehar Pee Ke Dukhoon Ke Saath Premi Rooth Kar Chala Gaya
Zaror Dhuka Pyar Main Os Ku Bohat Bara Mila Huga
Alag Alag Eid Mananay Ku Durrani Se Donoon Har Saal Khetay Hien
Zaror Ek Mulla Ka Deen Dosray Mulla Se Juda Huga
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






