Jis Ghari Tujhko Socha Karta
Poet: Zaheer khan By: Zaheer khan, karachiJis Ghari Tujhko Bhot Dair Tak Socha Karta
Tarey Hi Naam Se Phir Ek Ghzal Likha Karta
Teri Khushio K Lia Ghum Ko Chupaya Karta
Ashk Ankho Mein Lia Tujhko Hansaya Karta
Han Mujy Yad Ha Wo Rat Ka Manzr Ab Bhi
Tujh Ko Taktey Huey Hr Rat Jo Soya Krtaa
Apney Uljhey Huey Balon Sey Ulajhti Jo Kabi
Apney Hathon Sey Tarey Ball Sanwara Karta
Kitney Pyarey They Wo Bachpan K Guzarey Lamhey
Jaab Khilono Ko Chupa Kar Tujhey Chhera Karta
To Jo Phir Roth Key Ankho Sey Chali Jati Door
Paglon Ki Tarha Din Bhar Tujhey Dhonda Karta
Mary Hathon May Usi Phol Ki Khushbo Ha Basi
Tarey Balon Mein Joo Har Roz Lagaya Karta
Kia Tujhey Yad Ha Jab Rothti Thi To Mujhsey
Kasey Bachon Ki Tarha Tujhko Manaya Karta
Yad Ata Ha Mujhey Waqtey Judai Ka Wo Ashk
Tujsey Moon Pher K Chupky Sey Jo Nikla Karta
Wo Jo Khawbo Ka Ek Ghr Humny Banaya Tha Kbi
Ab Haqeqat Mey Wohi Ghar Tujhey Dhonda Krta
Tujh Se Milta To Bhot Dair Tak Batein Karta
Teri Nazuk Si Kalai Sey Main Khela Karta
Teri Ankho Sey Har Ek Ansoo Metaya Karta
Phir Tujhy Pyar Ka Ek Geet Sunaya Karta
Tha Yaken Dil Mey K Tu Muj Sy Bechar Jaygi
Phir Bhi Umeed Ka Aik Deep Jalaya Karta
Yad Ati Hein Zaheer Sari Duaen Abb Bhi
Jab Khuda Sy Tujhy Ro Ro K Mai Manga Karta
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






