Kabhe Ishq Huwa Tha Jari Hei

Poet: Sarim waiz By: Sarim waiz, Jampur

Kabhe Ishq Huwa Tha Jari Hei,Her Shab Ab Hum Par Bhari Hei
Koi Bikhr Gia So Ujar Gia,Yeh Bat Kab Kis Nay Jani Hei

Khak Kisi Nay Mara Hei,Aaj Khoob He Khud Ko Jana Hei
Jahan Nay Jis Ko Mana Hei,Yeh Dil To Us Say Khali Hei

Kab Kuch Kis Say Kehna Hei,Bus Dil He Dil Mein Rona Hei
Tum Bhe Suno Is Dil Ki Aawaz,Bat Dil Nay Dil Mein Ochali Hei

Nam Suna To Hosh Ga'ay,Deedar Huwa So Jan Gae
Ajab Hal Hamara Aisa Hei,Beaib He Khaffat Tari Hei

Dil Mein Shor Hota Hei,Dard Yeh Roz Hota Hei
Daikh Koi Shab Haal Mera,Kis Haal Mein Shab Guzari Hei

Ishq Ki Kiya Aoqat Yahan,Kam Hei Sara Shohrat Ka
Jahan Mein Sub Kuch Badal Giya,Yeh Dil He Kaisa Zawali Hei

Badal Ga'ay Sub Log Yahan,Tera Wohe Fasana Hei
Ja Ja Roye Dar Pe Un K Dil Bhe Ajab Sawali Hei

"Waiz" Chalo Ab Sham Dhali,Rahain Takna Choro Tum
Shab Guzar Gae,Sub Guzar Ga'ay Ab Un Ka Aana Khayali Hei
 

Rate it:
Views: 523
10 Nov, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL