Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai

Poet: Nadim Sarwar By: Mohammad Nadim Sarwar, Lahore

Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai

Keh Sansain Toot Jati Hain
Kisi Ki Rah Tak Tak Ker
Nigahain Sookh Jati Hain
Jinhen Ana Ho Jeewan Main
Wohi Aanay Nahi Paatay
Jinhen Ana Ho Khuwabon Main
Wo Rastay Bhool Jatay Hain

Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai

Jahan Dil Apna Khilta Hai
Waheen Mausam Badalta Hai
Hamain Jo Naam Lena Ho
Amanat Aur Ki Ho Wo
Hamai Jo Baat Kerni Ho
Sira Wo Mil Nahi Pata

Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai

Jahan Phoolon Ki Aahat Ho
Khizan Bhi Tan Ke Aati Hai
Koi Dharkan Sunaey Gee
Hamain Kya Raaz Ki Batain
Kabhi Jab Aankh Dil Per Ho
To Dil Hi Mil Nahi Paatay

Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai

Keh Lawa Beh Nahi Pata
Khwahish Aesi Hoti Hai
Mager Hum Roo Nahi Saktay
Sar-E-Maqtal Kharay Ho Ker
Kabhi Tum Ko Pukarain To
Sada'ain Mil Nahi Sakteet

Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai

Keh Mar Janay Ko Dil Chahay
Koi Marnay Nahi Deta
Kabhi Gham Yun Bhi Hota Hai
Hamain Hi Gham Kyun Hota Hai?
Usay Gham Kyon Nahi Hota?
 

Rate it:
Views: 1202
08 Aug, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL