Kabhi Kabhi Mere Dil Mein

Poet: By: Armaan, SIAKOT

Kabhi Kabhi Mere Dil Mein Khayal Aata Hai
K Zindagi Teri Zulfon Ki Narm Chaon Mein
Guzarne Pati To Shadab Ho Bhi Sakti Thi
Ye Tiragi Jo Mere Zist Ka Muqaddar Hai
Teri Nazar Ki Shuaon Mein Kho Bhi Sakti Thi

Ajab Na Tha K Main Begana-Ilm Hokar
Tere Jamal Ki Ranaion Mein Kho Rahta
Tera Gadaz Badan Teri Neem Baaz Aankhen
Inheen Haseen Fasanon Mein Moh Hoh Rahta

Pukarteen Mujhe Jab Talkhiyan Zamane Ki
Ter Labon Se Halawat Ke Ghoont Pe Leta
Hayat Cheekhti Phirti Barahna Sara Dar Mein
Ghaneri Zulfon Ke Saaye Mein Chup Ke Jee Leta

Magar Yeh Ho Na Saka Aur Ab Yeh Aalam Hai
Ke Tu Nahin Tera Gham Teri Justjoo Bhi Nahin
Guzar Rahi Hai Kuch Is Tarah Zindagi Jaise
Ise Kisi Ke Sahare Ki Aarzoo Bhi Nahin

Zamaan Bhar K Dukhon Ko Laga Chuka Hoon Gale
Guzar Raha Hoon Kuch Anjani Rahguzaron Se
Muhib Saaye Meri Simt Barhte Aate Hain
Hayat-O-Maut Ke Pur Haul Khar Zaron Se

Na Koi Jadah Na Manzil Na Roshni Ka Suraj
Bhatak Rahi Hai Khalaon Mein Zindagi Meri
Inheen Khalaon Mein Rah Jaaonga Kabhi Kho Kar
Main Jaanta Hoon Meri Humnafas Magar Yunhi

Kabhi Kabhi Mere Dil Mein Khayal Aata Hai
 

Rate it:
Views: 5807
09 Jul, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL