Kabhi Youn Bhi
Poet: Rashid By: Noman Brohi, karachiKabhii Youn Bhii Aa Merii Aankh Main Ke Merii Nazar Ko Khabar Na Ho
Mujhe Ek Raat Navaaz Dey Magar Uskey Baad Sehar Na Ho
Wo Bara Rahiim-O-Kariim Hai Mujhey Ye Sifaat Bhii Ataa Karey
Tujhey Bhulaney Kii Duaa Karon To Duaa Main Merii Asar Na Ho
Mere Baazuon Main Thakii Thakii , Abhii Mehaw-E-Khwaab Hai Chaandnii
Na Uthay Sitaaron Kii Paalkii, Abhii Aahaton Kaa Guzar Na Ho
Ye Ghazal Ki Jaisey Hiran Kii Aankhon Main Pichhalii Raat Kii Chaandnii
Naa Bujhey Kharaabe Kii Roshanii, Kabhii Becharaag Ye Ghar Na Ho
Wo Firaaq Ho Yaa Visaal Ho, Terii Yaad Mehkegii Ek Din
Wo Gulaab Ban Ke Khilegaa Kyaa, Jo Chiraag Ban Ke Jalaa Na Ho
Kabhii Dhoop Dey, Kabhii Badliyaan, Dil-O-Jaan Se Dono Qabool Hain
Magar Us Nagar Main Na Qaid Kar Jahaan Zindagii Kii Hawaa Na Ho
Kabhii Din Kii Dhoop Main Jhoom Ke Kabhii Shab Ke Phool Ko Choom Ke
Youn Hii Saath Saath Chalein Sadaa Kabhii Khatam Apanaa Safar Na Ho
Mere Paas Mere Habeeb Aa Zaraa Aur Dil Ke Qariib Aa
Tujhe Dharkano Main Basaa Loon Main Ke Bichharnay Kaa Kabhii Dar Na Ho
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






