Kaha Tha Us Ny Us Ny

Poet: Minhas By: Farasat ali, Lahore

Kaha Tha Us Ny
Jo Mera Hai
Wo Sirf Mera Hi Hai
Sr Sy Ly Kr Paaon Tk
Dho0p Sy Ly Kr Chaaon Tk
Shrarto.n Sy Ly Kr Adaaön Tk
Barishon Sy Ly Kr Hwaaon Tk
Ibadt sy Ly Kr Duaaon tkjo Mera Hai
wo Sirf Mera Hi Hai
Kaha Tha Us Ny
K
Mehfil Ho Ya Tnahi Ho
Wo Sochy To Sirf Mujh Ko
Wo Mangy To Sirf Mujh Ko
Wo Chahy To Sirf Mujh Ko
Wo Daikhy To Sirf Mujh ko
Han Aaj B Yad Hai Mujh ko
Kaha Tha Us Ny
Jo Mera Hai
Wo Sirf Mera Hi Hai
Sun Kr Us K Honton Sy Bohat Acha Lga Tha Mujh ko
Us Pal To us ka Pyar Bohat Sacha Lga tha Mujh ko

Dhrknon Mein Bs Gya Tha Wo Aisy
K
Har Dhrkn Mein Tha Naam Us Ka.
Hont Mery Hote To Jaam Us ka

Sanson K Sath Sath Rehny Lga Tha
Zikr kiya Main Ny Subha Sham Us Ka

Main Kahien Jata Main Kahien Hota
Har Waqt Tha Mujhy Dhyaan Us Ka

Pher Aisa Hua

K
YakLakht Mohbat ki Bsti Mein Ek Tufaan Aya Judai Ka
Daikhty Hi Daikhy Chhoot Gya Mery Hath Sy Hath Us Ka

Jany Kitny Mah_o_Sal Guzry Tlash Mein
Koi Khabr Hi Mili Na koi Mila Nishan Us Ka

Grd Hti Ankhon Sy To Pthra Gai Ankhen
Minhas
Daikh Kr RaQeeb K Hathon Mein Hath Us Ka

Rate it:
Views: 619
19 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL