Poetries by Khalid Roomi
دہر کے حادثات نے مارا خواہش التفات نے مارا
ایک سادہ سی بات نے مارا
حسن ذات و صفات نے مارا
عشق کی واردات نے مارا
زندگی پر تو قیامت ہے
دہر کے حادثات نے مارا
کیا بتاؤں میں بیکسی دل کی
ہجر کی کالی رات نے مارا
ناؤ رنگینیوں میں ڈوبی ہے
رونق شش جہات نے مارا
شوخی چشم اور لب و رخسار
حسن کی کائنات نے مارا
پھنس گئے ہم بھی اس شکنجے میں
آرزوئے نجات نے مارا
کب کوئی برچھیوں سے مرتا ہے
رنگ و خوشبو کی بات نے مارا
موت سے اس طرح نہیں مرتا
آدمی کو حیات نے مارا
لوگ دشمن کے ہاتھوں مارے گئے
ہمیں اپنوں کی گھات نے مارا
کون ہے طالب تغیریاں
آرزوئے نجات نے مارا
جی سکے گا جہاں میں کیا رومی
جسے خوف ممات نے مارا Khalid Roomi
ایک سادہ سی بات نے مارا
حسن ذات و صفات نے مارا
عشق کی واردات نے مارا
زندگی پر تو قیامت ہے
دہر کے حادثات نے مارا
کیا بتاؤں میں بیکسی دل کی
ہجر کی کالی رات نے مارا
ناؤ رنگینیوں میں ڈوبی ہے
رونق شش جہات نے مارا
شوخی چشم اور لب و رخسار
حسن کی کائنات نے مارا
پھنس گئے ہم بھی اس شکنجے میں
آرزوئے نجات نے مارا
کب کوئی برچھیوں سے مرتا ہے
رنگ و خوشبو کی بات نے مارا
موت سے اس طرح نہیں مرتا
آدمی کو حیات نے مارا
لوگ دشمن کے ہاتھوں مارے گئے
ہمیں اپنوں کی گھات نے مارا
کون ہے طالب تغیریاں
آرزوئے نجات نے مارا
جی سکے گا جہاں میں کیا رومی
جسے خوف ممات نے مارا Khalid Roomi
حسن لیلیٰ نظر نہیں آتا حسن لیلیٰ نظر نہیں آتا
وہ سراپا نظر نہیں آتا
کوئی رسوا نظر نہیں آتا
سر میں سودا نظر نہیں آتا
بے حسی چھا گئی ہے چاروں طرف
کوئی اپنا، نظر نہیں آتا
ہے خزاں کی لپیٹ میں گلشن
پھول کھلتا نظر نہیں آتا
چین آتا نہیں ہمیں، جب تک
تیرا چہرا نظر نہیں آتا
شور اٹھتا نہیں سر محفل
وہ تقاضا نظر نہیں آتا
آدمی ہے شکار دام سخن
ربط معنی نظر نہیں آتا
ہر طرف تیرگی کے بادل ہیں
ان کا جلوا نظر نہیں آتا
مسکرا کے، کبھی وہ بات کریں
ایسا ہوتا، نظر نہیں آتا
چشم بینا کا ہونا اپنی جگہ
دل بینا نظر نہیں آتا
مجھ کو تسکین کا کوئی لمحہ
میرے مولا ! نظر نہیں آتا
وہ پس پردہ چھپ گئے جا کر
پردہ اٹھتا نظر نہیں آتا
ہر طرف ہے سکوت کا عالم
لب گویا نظر نہیں آتا
وہم دوئی مٹا کے دیکھے کوئی
اپنا ہونا، نظر نہیں آتا
حسن جاناں کا دہر میں رومی
کون شیدا نظر نہیں آتا Khalid Roomi
وہ سراپا نظر نہیں آتا
کوئی رسوا نظر نہیں آتا
سر میں سودا نظر نہیں آتا
بے حسی چھا گئی ہے چاروں طرف
کوئی اپنا، نظر نہیں آتا
ہے خزاں کی لپیٹ میں گلشن
پھول کھلتا نظر نہیں آتا
چین آتا نہیں ہمیں، جب تک
تیرا چہرا نظر نہیں آتا
شور اٹھتا نہیں سر محفل
وہ تقاضا نظر نہیں آتا
آدمی ہے شکار دام سخن
ربط معنی نظر نہیں آتا
ہر طرف تیرگی کے بادل ہیں
ان کا جلوا نظر نہیں آتا
مسکرا کے، کبھی وہ بات کریں
ایسا ہوتا، نظر نہیں آتا
چشم بینا کا ہونا اپنی جگہ
دل بینا نظر نہیں آتا
مجھ کو تسکین کا کوئی لمحہ
میرے مولا ! نظر نہیں آتا
وہ پس پردہ چھپ گئے جا کر
پردہ اٹھتا نظر نہیں آتا
ہر طرف ہے سکوت کا عالم
لب گویا نظر نہیں آتا
وہم دوئی مٹا کے دیکھے کوئی
اپنا ہونا، نظر نہیں آتا
حسن جاناں کا دہر میں رومی
کون شیدا نظر نہیں آتا Khalid Roomi
آج آہستہ آہ کر لینا آج آہستہ آہ کر لینا
تم بھی نیچی نگاہ کر لینا
اپنی دنیا تباہ کر لینا
بزم میں واہ واہ! کر لینا
جذبہ دل پہ آنچ جب آئے
عشق اپنا گواہ کر لینا
گھر میں اپنے بلا کے ان کو تم
رونق مہر و ماہ کر لینا
حسن والوں کی کچھ کمی تو نہیں
پھر کہیں رسم و راہ کر لینا
دوستی سے بروں کی، بچتے رہو
خود کو مت روسیاہ کر لینا
شہر میں جب ہو کوئی فتنہ بپا
حسن پر اشتباہ کر لینا
روز محشر کا خوف کیا رومی
ان کو تم سر براہ کر لینا Khalid Roomi
تم بھی نیچی نگاہ کر لینا
اپنی دنیا تباہ کر لینا
بزم میں واہ واہ! کر لینا
جذبہ دل پہ آنچ جب آئے
عشق اپنا گواہ کر لینا
گھر میں اپنے بلا کے ان کو تم
رونق مہر و ماہ کر لینا
حسن والوں کی کچھ کمی تو نہیں
پھر کہیں رسم و راہ کر لینا
دوستی سے بروں کی، بچتے رہو
خود کو مت روسیاہ کر لینا
شہر میں جب ہو کوئی فتنہ بپا
حسن پر اشتباہ کر لینا
روز محشر کا خوف کیا رومی
ان کو تم سر براہ کر لینا Khalid Roomi
ربط کچھ ایسے بڑھے ربط کچھ ایسے بڑھے دل کے کہ حیراں وہ گئے
وہ پریشاں ہوگئے تو ہم پریشاں ہوگئے
سر بسر فتنہ روش انداز جاناں ہوگئے
جو نہاں آنکھوں میں تھے شعلے، نمایاں ہوگئے
ایک پل میں تجھ پہ صدقے دین و ایماں ہوگئے
دیکھ کر لاکھوں تیری صورت مسلماں ہوگئے
ان کے الطاف و کرم کی بات کچھ مت پوچھئے
مرحلے جتنے تھے مشکل، سارے آساں ہوگئے
ایک دنیا اب میری تعظیم کو اٹھنے لگی
جب سے وہ میرے فسانے کا ہیں عنواں ہوگئے
تشنگی باقی ہے دل میں اب نہ کوئی ہے خلش
پورے اک اک کر کے سارے دل کے ارماں ہوگئے
ان کو دیکھا تو جنوں سے آشنائی ہوگئی
آج رومی ! ایک سے جیب و گریباں ہوگئے Khalid Roomi
وہ پریشاں ہوگئے تو ہم پریشاں ہوگئے
سر بسر فتنہ روش انداز جاناں ہوگئے
جو نہاں آنکھوں میں تھے شعلے، نمایاں ہوگئے
ایک پل میں تجھ پہ صدقے دین و ایماں ہوگئے
دیکھ کر لاکھوں تیری صورت مسلماں ہوگئے
ان کے الطاف و کرم کی بات کچھ مت پوچھئے
مرحلے جتنے تھے مشکل، سارے آساں ہوگئے
ایک دنیا اب میری تعظیم کو اٹھنے لگی
جب سے وہ میرے فسانے کا ہیں عنواں ہوگئے
تشنگی باقی ہے دل میں اب نہ کوئی ہے خلش
پورے اک اک کر کے سارے دل کے ارماں ہوگئے
ان کو دیکھا تو جنوں سے آشنائی ہوگئی
آج رومی ! ایک سے جیب و گریباں ہوگئے Khalid Roomi
منقبت حضرت غوث پاک دل و جان تجھ پر فدا غوث اعظم
میرے رہبر و رہنما غوث اعظم
سراپا کرم کی گھٹا غوث اعظم
محمد کے گھر کی ضیا غوث اعظم
علی، فاطمہ اور حسین و حسن کا
جہاں میں تو ہے دلربا غوث اعظم
تیرا فیض جاری یہاں روز شب ہے
نہیں بند راہ عطا غوث اعظم
مصیبت کے ماروں کا تو آسرا ہے
غریبوں کے دکھ کی دوا غوث اعظم
ملی دین و دنیا کی دولت تجھی سے
سبھی کا ہے تو پیشوا غوث اعظم
سر بزم یہ تیری شان اللہ اللہ
کریں تجھ پہ رشک اولیا غوث اعظم
مجھے بھیک کچھ تو پئے فاطمہ دے
میں ہوں تیرے در کا گدا غوث اعظم
ہوئے جس سے ظاہر ہیں وحدت کے جلوے
ہے وہ پر تو مصطفیٰ غوث اعظم
اٹھاؤں نہ سجدوں سے اپنی جبیں کو
ملے گر ترا نقش پا غوث اعظم
حوادث کے ہاتھوں نہ ڈوبے سفینہ
مدد کو ذرا میری آ غوث اعظم
بڑھے ہاتھ رومی کا تیری طرف ہی
اسے اپنا منگتا بنا غوث اعظم Khalid Roomi
میرے رہبر و رہنما غوث اعظم
سراپا کرم کی گھٹا غوث اعظم
محمد کے گھر کی ضیا غوث اعظم
علی، فاطمہ اور حسین و حسن کا
جہاں میں تو ہے دلربا غوث اعظم
تیرا فیض جاری یہاں روز شب ہے
نہیں بند راہ عطا غوث اعظم
مصیبت کے ماروں کا تو آسرا ہے
غریبوں کے دکھ کی دوا غوث اعظم
ملی دین و دنیا کی دولت تجھی سے
سبھی کا ہے تو پیشوا غوث اعظم
سر بزم یہ تیری شان اللہ اللہ
کریں تجھ پہ رشک اولیا غوث اعظم
مجھے بھیک کچھ تو پئے فاطمہ دے
میں ہوں تیرے در کا گدا غوث اعظم
ہوئے جس سے ظاہر ہیں وحدت کے جلوے
ہے وہ پر تو مصطفیٰ غوث اعظم
اٹھاؤں نہ سجدوں سے اپنی جبیں کو
ملے گر ترا نقش پا غوث اعظم
حوادث کے ہاتھوں نہ ڈوبے سفینہ
مدد کو ذرا میری آ غوث اعظم
بڑھے ہاتھ رومی کا تیری طرف ہی
اسے اپنا منگتا بنا غوث اعظم Khalid Roomi
اج سک متراں دی ودھیری اے اج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
الطیف سریٰ من طلعتہ
والشذو البدیٰ من الوفرتہ
و سکرت ھنا من نظرتہ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں
دو ابرو قوس مثال دسن
جیں تھیں نوک مژہ دے تیر چھٹن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں
مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکدی لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جانان کہ جان جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تھیں شاناں سب بنیاں
ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روز حشر
وچ قبر دے پل تھیں ہوسی گزر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں
دسے صورت راہ بے صورت دا
توبہ رہ کیہ عین حقیقت دا
پر کم نئیں ایہ بہ سوجھت دا
کئی ورلیاں موتی لے تریاں
سبحان اللہ ما اجملک
ما احسنک ما اکملک
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں تھے جا اڑیاں Khalid Roomi
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
الطیف سریٰ من طلعتہ
والشذو البدیٰ من الوفرتہ
و سکرت ھنا من نظرتہ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں
دو ابرو قوس مثال دسن
جیں تھیں نوک مژہ دے تیر چھٹن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں
مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکدی لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جانان کہ جان جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تھیں شاناں سب بنیاں
ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روز حشر
وچ قبر دے پل تھیں ہوسی گزر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں
دسے صورت راہ بے صورت دا
توبہ رہ کیہ عین حقیقت دا
پر کم نئیں ایہ بہ سوجھت دا
کئی ورلیاں موتی لے تریاں
سبحان اللہ ما اجملک
ما احسنک ما اکملک
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں تھے جا اڑیاں Khalid Roomi
ان کے انداز کرم ان کے انداز کرم، ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت، وہ باتیں، وہ زمانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ٹھکانا دل کا
نقش بر آب نہیں، وہم نہیں، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
ان کی محفل میں نصیر ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا Khalid Roomi
ہائے وہ وقت، وہ باتیں، وہ زمانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ٹھکانا دل کا
نقش بر آب نہیں، وہم نہیں، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
ان کی محفل میں نصیر ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا Khalid Roomi
لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے
میری سوئی قسمت جگائی گئی ہے
بہت شاد ہیں قبر میں اہل نسبت
نبی کی زیارت کرائی گئی ہے
نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا
تو کیوں بزم عالم سجائی گئی ہے
صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت
بہت ان کے کوچے میں آئی گئی ہے
لحد سے نصیر اب چلو تم بھی اٹھ کر
انھیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے Khalid Roomi
میری سوئی قسمت جگائی گئی ہے
بہت شاد ہیں قبر میں اہل نسبت
نبی کی زیارت کرائی گئی ہے
نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا
تو کیوں بزم عالم سجائی گئی ہے
صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت
بہت ان کے کوچے میں آئی گئی ہے
لحد سے نصیر اب چلو تم بھی اٹھ کر
انھیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے Khalid Roomi
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا گلزار مدینہ صل علیٰ رحمت کی گھٹا سبحان اللہ
پر لطف فضا ماشاء اللہ، پر کیف ہوا سبحان اللہ
اس زلف معبر کو چھو کر، مہکاتی ہوئی، اتراتی ہوئی
لائی ہے پیام تازہ کوئی، آئی ہے صبا سبحان اللہ
والشمس جمال ہوشربا، زلفیں واللیل اذا یغشیٰ
القاب سیادت قرآن میں یسیں، طٰہٰ سبحان اللہ
ہونٹوں پہ تبسم کی موجیں، ہاتھوں میں لئے جام رحمت
کوثر کے کنارے وہ ان کا انداز عطا سبحان اللہ
معراج کی شب حضرت کا سفر، افلاک کی رونق سر تا سر
مہتاب کی صورت روشن ہے نقش کف پا سبحان اللہ
کہنے کو تو نعتیں سب نے کہیں، یہ نعت نصیر آفاقی ہے
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا، کیا خوب کہا ! سبحان اللہ Khalid Roomi
پر لطف فضا ماشاء اللہ، پر کیف ہوا سبحان اللہ
اس زلف معبر کو چھو کر، مہکاتی ہوئی، اتراتی ہوئی
لائی ہے پیام تازہ کوئی، آئی ہے صبا سبحان اللہ
والشمس جمال ہوشربا، زلفیں واللیل اذا یغشیٰ
القاب سیادت قرآن میں یسیں، طٰہٰ سبحان اللہ
ہونٹوں پہ تبسم کی موجیں، ہاتھوں میں لئے جام رحمت
کوثر کے کنارے وہ ان کا انداز عطا سبحان اللہ
معراج کی شب حضرت کا سفر، افلاک کی رونق سر تا سر
مہتاب کی صورت روشن ہے نقش کف پا سبحان اللہ
کہنے کو تو نعتیں سب نے کہیں، یہ نعت نصیر آفاقی ہے
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا، کیا خوب کہا ! سبحان اللہ Khalid Roomi
بہاریہ سرور ہے فضاؤں میں ، وہ سرمدی خمار ہے
مٹی ہیں لن ترانیاں ، یقیں کا بیڑہ پار ہے
چمک دمک نئی نئی، افق افق ہے روشنی
ہے شادماں کلی کلی کہ صبح نور بار ہے
ہیں شاد اہل گلستاں، نئی ہے رت، نیا سماں
ہر ایک برگ سے عیاں جمال لالہ زار ہے
مسرتوں کے زمزمے، یہ نکہتوں کے سلسلے
سجے سجے ہیں راستے، چہک ہے اور پکار ہے
یہ رنگ و روپ کا نشاں، یہ گلستاں کے درمیاں
جو آبشاریں ہیں رواں، سماں یہ پر بہار ہے
جدھر جدھر کو ہم گئے، ادھر کو جا تھم گئے
کہاں وہ پیچ و خم گئے، یہ کونسا دیار ہے؟
خوشی کی لہر دوڑ اٹھی، حصار غم کو توڑ اٹھی
ستم کی آنکھ پھوڑ اٹھی، عطائے کردگار ہے
ہے تازگی گلاب میں، سحر بھی ہے شباب میں
جواں ہے رت، ہری بھری ہر ایک شاخسار ہے
وفا پرست آج بھی، ہیں سرخرو خوشی خوشی
ہوس ہے یوں بجھی بجھی، عدو کو جوں بخار ہے
جمال بادہ دلربا، ہوئی نشے سے پر فضا
نظر نظر میں ہے نشہ، قدم قدم خمار ہے
کھلے ہیں گل ورق ورق، ہیں لالیاں شفق شفق
شباب ہے افق افق، افق افق بہار ہے
یہ روشنی ، یہ قمقمے، یہ چہچہے، یہ قہقہے
یہ نغمگی، یہ زمزمے، روش روش نکھار ہے
شجر شجر ہے زر بکف، ہے ڈالیوں میں صف بصف
نظر نظر میں ہر طرف، جمال صد ہزار ہے
یہ خواب اور خیال کیا، لبوں پہ یہ سوال کیا
گماں کا ہے ملال کیا، فضا تو خوشگوار ہے
کلی کلی ہوئی جواں، ہے رنگ و نور کا سماں
یہی چمن کی داستاں، اسی کا اعتبار ہے
دھلی ہیں سب کثافتیں، کھلی کھلی لطافتیں
چمن کی یہ ضیافتیں، انھی پہ دل نثار ہے
خزاں کسے ہے یاد اب، خزاں کی بات بے سبب
بہار ہے عطائے رب، عطائے رب بہار ہے
امنگ بھی ترنگ بھی، ادھر وہ شوخ و شنگ بھی
ادھر رباب و چنگ بھی، لبوں پہ اک پکار ہے
فلک بھی ایک جست تھا کہ ہیچ اوج و پست تھا
یہ دل جو مے پرست تھا، نثار حسن یار ہے
یہ چاندنی کی جستجو، یہ بارشوں کی گفتگو
یہ قمریوں کی ہاؤ ہو، اسی سے افتخار ہے
جو سرخ رنگ پھول ہیں، تو زرد رو ببول ہیں
وفاؤں کے اصول ہیں، جفا تو شرمسار ہے
روش روش، چمن چمن، طرح طرح کے بانکپن
یہ یاسمیں، وہ نسترن، عروس لالہ زار ہے
نشاط کے سراغ ہیں، جو مے سے پر ایاغ ہیں
لو، تازہ تر دماغ ہیں کہ باغ میں بہار ہے
ملی گلوں کے درمیاں ، عجیب سبزہ زاریاں
پڑی ہوئی یہاں وہاں، وہ شبنمی پھوار ہے
وہ قمریاں، یہ بلبلیں ، یہ سر اٹھاتی کونپلیں
چمن میں سب یہ غل کریں، بہار ہے بہار ہے
اسی سے ہے سجا ہوا، ہے دل سے دل ملا ہوا
اسی پہ دل فدا ہوا، اسی پہ جانثار ہے
خدا کی مہربانیاں، بہار کی نشانیاں
گلوں میں شادمانیاں، ملول خار خار ہے
رہا نہ کوئی تشنہ لب، نئی ادا، نئے ہیں ڈھب
خزاں کے سر پہ وار اب بنام ذوالفقار ہے
ہوا میں نغمہ زا چہک، فضا میں ہے نئی مہک
ہے ڈالیوں میں اک لہک، یہ کیسا کاروبار ہے ؟
پیو ہر ایک جام سے، نگاہ بادہ فام سے
پھرو نہ تشنہ کام “سے“، شراب فیض بار ہے
ہے آئنہ صفات کا، لہو، گل حیات کا
جمال و کائنات کا ، جو ربط استوار ہے
یہی ہیں اصل ساعتیں، کرم کی ہیں روایتیں
ورق ورق پہ آیتیں، انھی پہ انحصار ہے
فلک پہ قوس و قزح کا، زمیں پہ جام و قدح کا
نئی نئی ہی طرح کا، فسون چشم یار ہے
فسردہ ہے ایاز کیوں؟ کھلا نہیں ہے راز کیوں؟
یہ ناز کیوں؟ نیاز کیوں؟ کوئی تو پردہ دار ہے
یہ فصل گل، یہ عکس مل، پیام لطف ذات کل
بپا ہے چار سمت غل، چمن میں پھر بہار ہے
گلوںمیں رنگ دیکھ کر، مٹے ہیں غم ، رہا نہ ڈر
ہوا ہے شاد ہر بشر، طلسم لالہ زار ہے
نہ در بدر جبیں دھریں، خزاں کی بات کیوں کریں؟
یہی ہے قول رومی ! سچ ، بہار پھر بہار ہے Khalid Roomi
مٹی ہیں لن ترانیاں ، یقیں کا بیڑہ پار ہے
چمک دمک نئی نئی، افق افق ہے روشنی
ہے شادماں کلی کلی کہ صبح نور بار ہے
ہیں شاد اہل گلستاں، نئی ہے رت، نیا سماں
ہر ایک برگ سے عیاں جمال لالہ زار ہے
مسرتوں کے زمزمے، یہ نکہتوں کے سلسلے
سجے سجے ہیں راستے، چہک ہے اور پکار ہے
یہ رنگ و روپ کا نشاں، یہ گلستاں کے درمیاں
جو آبشاریں ہیں رواں، سماں یہ پر بہار ہے
جدھر جدھر کو ہم گئے، ادھر کو جا تھم گئے
کہاں وہ پیچ و خم گئے، یہ کونسا دیار ہے؟
خوشی کی لہر دوڑ اٹھی، حصار غم کو توڑ اٹھی
ستم کی آنکھ پھوڑ اٹھی، عطائے کردگار ہے
ہے تازگی گلاب میں، سحر بھی ہے شباب میں
جواں ہے رت، ہری بھری ہر ایک شاخسار ہے
وفا پرست آج بھی، ہیں سرخرو خوشی خوشی
ہوس ہے یوں بجھی بجھی، عدو کو جوں بخار ہے
جمال بادہ دلربا، ہوئی نشے سے پر فضا
نظر نظر میں ہے نشہ، قدم قدم خمار ہے
کھلے ہیں گل ورق ورق، ہیں لالیاں شفق شفق
شباب ہے افق افق، افق افق بہار ہے
یہ روشنی ، یہ قمقمے، یہ چہچہے، یہ قہقہے
یہ نغمگی، یہ زمزمے، روش روش نکھار ہے
شجر شجر ہے زر بکف، ہے ڈالیوں میں صف بصف
نظر نظر میں ہر طرف، جمال صد ہزار ہے
یہ خواب اور خیال کیا، لبوں پہ یہ سوال کیا
گماں کا ہے ملال کیا، فضا تو خوشگوار ہے
کلی کلی ہوئی جواں، ہے رنگ و نور کا سماں
یہی چمن کی داستاں، اسی کا اعتبار ہے
دھلی ہیں سب کثافتیں، کھلی کھلی لطافتیں
چمن کی یہ ضیافتیں، انھی پہ دل نثار ہے
خزاں کسے ہے یاد اب، خزاں کی بات بے سبب
بہار ہے عطائے رب، عطائے رب بہار ہے
امنگ بھی ترنگ بھی، ادھر وہ شوخ و شنگ بھی
ادھر رباب و چنگ بھی، لبوں پہ اک پکار ہے
فلک بھی ایک جست تھا کہ ہیچ اوج و پست تھا
یہ دل جو مے پرست تھا، نثار حسن یار ہے
یہ چاندنی کی جستجو، یہ بارشوں کی گفتگو
یہ قمریوں کی ہاؤ ہو، اسی سے افتخار ہے
جو سرخ رنگ پھول ہیں، تو زرد رو ببول ہیں
وفاؤں کے اصول ہیں، جفا تو شرمسار ہے
روش روش، چمن چمن، طرح طرح کے بانکپن
یہ یاسمیں، وہ نسترن، عروس لالہ زار ہے
نشاط کے سراغ ہیں، جو مے سے پر ایاغ ہیں
لو، تازہ تر دماغ ہیں کہ باغ میں بہار ہے
ملی گلوں کے درمیاں ، عجیب سبزہ زاریاں
پڑی ہوئی یہاں وہاں، وہ شبنمی پھوار ہے
وہ قمریاں، یہ بلبلیں ، یہ سر اٹھاتی کونپلیں
چمن میں سب یہ غل کریں، بہار ہے بہار ہے
اسی سے ہے سجا ہوا، ہے دل سے دل ملا ہوا
اسی پہ دل فدا ہوا، اسی پہ جانثار ہے
خدا کی مہربانیاں، بہار کی نشانیاں
گلوں میں شادمانیاں، ملول خار خار ہے
رہا نہ کوئی تشنہ لب، نئی ادا، نئے ہیں ڈھب
خزاں کے سر پہ وار اب بنام ذوالفقار ہے
ہوا میں نغمہ زا چہک، فضا میں ہے نئی مہک
ہے ڈالیوں میں اک لہک، یہ کیسا کاروبار ہے ؟
پیو ہر ایک جام سے، نگاہ بادہ فام سے
پھرو نہ تشنہ کام “سے“، شراب فیض بار ہے
ہے آئنہ صفات کا، لہو، گل حیات کا
جمال و کائنات کا ، جو ربط استوار ہے
یہی ہیں اصل ساعتیں، کرم کی ہیں روایتیں
ورق ورق پہ آیتیں، انھی پہ انحصار ہے
فلک پہ قوس و قزح کا، زمیں پہ جام و قدح کا
نئی نئی ہی طرح کا، فسون چشم یار ہے
فسردہ ہے ایاز کیوں؟ کھلا نہیں ہے راز کیوں؟
یہ ناز کیوں؟ نیاز کیوں؟ کوئی تو پردہ دار ہے
یہ فصل گل، یہ عکس مل، پیام لطف ذات کل
بپا ہے چار سمت غل، چمن میں پھر بہار ہے
گلوںمیں رنگ دیکھ کر، مٹے ہیں غم ، رہا نہ ڈر
ہوا ہے شاد ہر بشر، طلسم لالہ زار ہے
نہ در بدر جبیں دھریں، خزاں کی بات کیوں کریں؟
یہی ہے قول رومی ! سچ ، بہار پھر بہار ہے Khalid Roomi
کیہ دساں بڑی اوکھی اے منزل عشق دی یاراں نوں کیہ دساں
مصیبت دی میہں گل، سکھ دے طلبگاراں نوں کیہ دساں
بہار میکدہ جلوہ مرے ساقی دا بنیا اے
بڑی رحمت خدا دی اے، گنہگاراں نوں کیہ دساں
نصیباں دا ستایا تے کدی پانی نئیں منگدا
مقدر دے ستم ڈاہڈے نے لاچاراں نوں کیہ دساں
کوئی سنگی نہ بیلی اے، نہ کوئی غم گسار اپنا
شب غم دی کہانی دشت دے خاراں نوں کیہ دساں
بھرے میلے دے اندر چپ بھلی اے حضرت رومی
گھراں دی گل ایہناں چوکاں تے بازاراں نوں کیہ دساں Khalid Roomi
مصیبت دی میہں گل، سکھ دے طلبگاراں نوں کیہ دساں
بہار میکدہ جلوہ مرے ساقی دا بنیا اے
بڑی رحمت خدا دی اے، گنہگاراں نوں کیہ دساں
نصیباں دا ستایا تے کدی پانی نئیں منگدا
مقدر دے ستم ڈاہڈے نے لاچاراں نوں کیہ دساں
کوئی سنگی نہ بیلی اے، نہ کوئی غم گسار اپنا
شب غم دی کہانی دشت دے خاراں نوں کیہ دساں
بھرے میلے دے اندر چپ بھلی اے حضرت رومی
گھراں دی گل ایہناں چوکاں تے بازاراں نوں کیہ دساں Khalid Roomi
قطعات نیرنگئی دوراں
رات دن آہ و فغاں میرے لئے
رنج و غم ہیں نا گہاں میرے لئے
پھر گئیں آنکھیں جہاں کی اس طرح
ہر قدم ہیں امتحاں میرے لئے
اقدار سوزیاں
انسانیت کا نکلا جنازا گلی گلی
حیوانیت کی عام ہوئی لہر آجکل
ہر سمت بم دھماکوں کا جب سلسلہ بڑھا
ماتم کدہ بنا ہے بھرا شہر آجکل
زندگی کی راہ
درد و غم، صدمے، الم، بے چینیاں ، مجبوریاں
زندگی کی راہ میں ہیں آفتیں، مجبوریاں
سر اٹھا کر کس طرح کوئی جئے گا دہر میں ؟
آدمی کے واسطے ہیں مشکلیں ، مجبوریاں
گرفت گردش ایام
ہیں تہہ در تہہ چھپے صدمے یہاں پر
کسے اندازہ ہو گہرائیوں کا
غریبوں کا ہوا ہے جینا دشوار
بڑھا ہے سلسلہ مہنگائیوں کا
مسئلہ
سسکتے ، بلکتے، ہوؤں کے لئے
عبث ہے کھری، کھوٹی کا مسئلہ
غریبوں کو سب مسئلوں سے بڑا
ہے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ
قناعت
ہم لوگ ذرا رنج میں ڈوبا نہیں کرتے
امید کا دامن کبھی چھوڑا نہیں کرتے
کرتے ہیں بسر اپنی قناعت میں ہمیشہ
شاہوں کی طرف حرص سے دیکھا نہیں کرتے Khalid Roomi
رات دن آہ و فغاں میرے لئے
رنج و غم ہیں نا گہاں میرے لئے
پھر گئیں آنکھیں جہاں کی اس طرح
ہر قدم ہیں امتحاں میرے لئے
اقدار سوزیاں
انسانیت کا نکلا جنازا گلی گلی
حیوانیت کی عام ہوئی لہر آجکل
ہر سمت بم دھماکوں کا جب سلسلہ بڑھا
ماتم کدہ بنا ہے بھرا شہر آجکل
زندگی کی راہ
درد و غم، صدمے، الم، بے چینیاں ، مجبوریاں
زندگی کی راہ میں ہیں آفتیں، مجبوریاں
سر اٹھا کر کس طرح کوئی جئے گا دہر میں ؟
آدمی کے واسطے ہیں مشکلیں ، مجبوریاں
گرفت گردش ایام
ہیں تہہ در تہہ چھپے صدمے یہاں پر
کسے اندازہ ہو گہرائیوں کا
غریبوں کا ہوا ہے جینا دشوار
بڑھا ہے سلسلہ مہنگائیوں کا
مسئلہ
سسکتے ، بلکتے، ہوؤں کے لئے
عبث ہے کھری، کھوٹی کا مسئلہ
غریبوں کو سب مسئلوں سے بڑا
ہے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ
قناعت
ہم لوگ ذرا رنج میں ڈوبا نہیں کرتے
امید کا دامن کبھی چھوڑا نہیں کرتے
کرتے ہیں بسر اپنی قناعت میں ہمیشہ
شاہوں کی طرف حرص سے دیکھا نہیں کرتے Khalid Roomi
میرے ساقی ایک جام ایسا میرے ساقی ! عنایت کرنا
مجھ کو ہے اور ابھی ماتم حسرت کرنا
مثل حاتم کبھی ایسی بھی سخاوت کرنا
تم ذرا اور بھی افزوں غم فرقت کرنا
در زنداں ہے، میرا سر ہے، جنوں خیزی ہے
پھر بیاں مجھ سے بہاروں کی حکایت کرنا
ان کی تصویر نگاہوں میں بسائے پھرنا
رات دن انکی تمنائے زیارت کرنا
غنچئہ شوق کو آتا ہے لہو کرنا انہیں
دل کی میت پہ بپا جشن مسرت کرنا
ابھی باقی ہیں کئی تار گریباں میں میرے
ابھی زیبا ہے یہ ہنگامئہ وحشت کرنا
زخم بیتاب ہیں پھر مشق ستم سہنے کو
تم ذرا آ کے مک پاشی کی زحمت کرنا
نہ تو کم ظرف ہیں ہم اور نہ ہی کج فطرت
ہمیں آتا ہے عدو سے بھی محبت کرنا
درد و آلام نے کھولی ہے میرے دل کی گرہ
غم کی رومی ! نہ مناسب ہے شکایت کرنا Khalid Roomi
مجھ کو ہے اور ابھی ماتم حسرت کرنا
مثل حاتم کبھی ایسی بھی سخاوت کرنا
تم ذرا اور بھی افزوں غم فرقت کرنا
در زنداں ہے، میرا سر ہے، جنوں خیزی ہے
پھر بیاں مجھ سے بہاروں کی حکایت کرنا
ان کی تصویر نگاہوں میں بسائے پھرنا
رات دن انکی تمنائے زیارت کرنا
غنچئہ شوق کو آتا ہے لہو کرنا انہیں
دل کی میت پہ بپا جشن مسرت کرنا
ابھی باقی ہیں کئی تار گریباں میں میرے
ابھی زیبا ہے یہ ہنگامئہ وحشت کرنا
زخم بیتاب ہیں پھر مشق ستم سہنے کو
تم ذرا آ کے مک پاشی کی زحمت کرنا
نہ تو کم ظرف ہیں ہم اور نہ ہی کج فطرت
ہمیں آتا ہے عدو سے بھی محبت کرنا
درد و آلام نے کھولی ہے میرے دل کی گرہ
غم کی رومی ! نہ مناسب ہے شکایت کرنا Khalid Roomi
ایسا تو کوئی شخص بھی ہم کو ملا نہیں ایسا تو کوئی شخص بھی ہم کو ملا نہیں
غم کا مزا جہان میں جس نے چکھا نہیں
اندھیر اس قدر بھی تو یارو ! مچا نہیں
دل شہر آرزو کا ہے، ماتم کدا نہیں
امید ہے جوان تو ہیں حوصلے بلند
منزل پہ جو نہ پہنچے، یہ وہ قافلہ نہیں
شہر ستمگراں میں ہیں شبیر کے مرید
ہم کو یزیدیت سے کوئی واسطہ نہیں
آوارگان دشت محبت ہمیں تو ہیں
وہ شخص ہے ادھورا، جو ہم سے ملا نہیں
رہنے دو کیوں کریدتے ہو بار بار اسے
پریوں کی داستان میرا ماجرا نہیں
جانا ہے زندگی کے مصائب کو دیکھ کر
دنیا میں رنج و غم کی کوئی انتہا نہیں
میرا سخن وفا و محبت کا ہے پیام
بغض و حسد ، نفاق مرا راستا نہیں
انجام کا رہا اسے رومی ! ہمیشہ خوف
جس نے کیا مآل سپرد خدا نہیں Khalid Roomi
غم کا مزا جہان میں جس نے چکھا نہیں
اندھیر اس قدر بھی تو یارو ! مچا نہیں
دل شہر آرزو کا ہے، ماتم کدا نہیں
امید ہے جوان تو ہیں حوصلے بلند
منزل پہ جو نہ پہنچے، یہ وہ قافلہ نہیں
شہر ستمگراں میں ہیں شبیر کے مرید
ہم کو یزیدیت سے کوئی واسطہ نہیں
آوارگان دشت محبت ہمیں تو ہیں
وہ شخص ہے ادھورا، جو ہم سے ملا نہیں
رہنے دو کیوں کریدتے ہو بار بار اسے
پریوں کی داستان میرا ماجرا نہیں
جانا ہے زندگی کے مصائب کو دیکھ کر
دنیا میں رنج و غم کی کوئی انتہا نہیں
میرا سخن وفا و محبت کا ہے پیام
بغض و حسد ، نفاق مرا راستا نہیں
انجام کا رہا اسے رومی ! ہمیشہ خوف
جس نے کیا مآل سپرد خدا نہیں Khalid Roomi
حمد باری تعالیٰ تو ہی ابتدا، تو ہی انتہا، تری شان جل جلالہ
تو ہی دو جہاں کا ہے مدعا، تری شان جل جلالہ
کہوں کیا میں اس کے سوا؟ تری شان جل جلالہ
کوئی آج تک نہ سمج سکا، تری شان جل جلالہ
تری عظمتوں کا نشان ہیں، تری رفعتوں کا بیان ہیں
یہ شجر، حجر، یہ چمن، گھٹا، تری شان جل جلالہ
یہ جمال حسن و شباب سب، یہ تجلیاں، یہ گلاب سب
یہ چمک ہےکیا، یہ دمک ہے کیا، تری شان جل جلالہ
تری خوشبوئیں، تری نکہتیں، ہمہ جہت ہیں تری آیتیں
جہاں رخ کیا، تھا یہی لکھا، تری شان جل جلالہ
تو جلیل بھی، تو رحیم بھی، تو بے نیاز، کریم بھی
ہے بشر کا ہادی و رہنما، تری شان جل جلالہ
کہیں کو بہ کو،کہیں سو بہ سو، کہیں یم بہ یم،کہیں جو بہ جو
تری رحمتوں کا ہے سلسلہ، تری شان جل جلالہ
یہ مقام ناز و نیاز ہے، ترا لطف بندہ نواز ہے
ترے در کا رومی ہے اک گدا، تری شان جل جلالہ Khalid Roomi
تو ہی دو جہاں کا ہے مدعا، تری شان جل جلالہ
کہوں کیا میں اس کے سوا؟ تری شان جل جلالہ
کوئی آج تک نہ سمج سکا، تری شان جل جلالہ
تری عظمتوں کا نشان ہیں، تری رفعتوں کا بیان ہیں
یہ شجر، حجر، یہ چمن، گھٹا، تری شان جل جلالہ
یہ جمال حسن و شباب سب، یہ تجلیاں، یہ گلاب سب
یہ چمک ہےکیا، یہ دمک ہے کیا، تری شان جل جلالہ
تری خوشبوئیں، تری نکہتیں، ہمہ جہت ہیں تری آیتیں
جہاں رخ کیا، تھا یہی لکھا، تری شان جل جلالہ
تو جلیل بھی، تو رحیم بھی، تو بے نیاز، کریم بھی
ہے بشر کا ہادی و رہنما، تری شان جل جلالہ
کہیں کو بہ کو،کہیں سو بہ سو، کہیں یم بہ یم،کہیں جو بہ جو
تری رحمتوں کا ہے سلسلہ، تری شان جل جلالہ
یہ مقام ناز و نیاز ہے، ترا لطف بندہ نواز ہے
ترے در کا رومی ہے اک گدا، تری شان جل جلالہ Khalid Roomi
بحضور حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غم حسین کو جو دل سے ہیں لگائے ہوئے
وہی تو اپنا جہاں آپ ہیں بسائے ہوئے
خوشی خوشی ہیں رواں کربلا کی منزل کو
بڑھے ہیں موت کی جانب تو مسکرائے ہوئے
حسین ابن علی کے سوا تھا کون ایسا؟
خدا، رسول کا پرچم چلے اٹھائے ہوئے
یہ ماتم غم شبیر ہے حقیقت میں
زمین دشت ہے اب تک جو خاک اڑائے ہوئے
یقین ان کا مٹائیں گے کیا یہ وہم و گماں
جنھیں وہ خود مئے توحید ہیں پلائے ہوئے
فلک اداس، زمیں چپ، فضا پریشاں ہے
غم و الم کے بہر سو ہیں ابر چھائے ہوئے
بپا ہوا ہے قیامت کا شور خیموں میں
حسین آئے جو اصغر کی لاش اٹھائے ہوئے
وہ قاسم و علی اکبر جواں مجاہد تھے
عدو بھی جن کے مقابل تھے لڑکھڑائے ہوئے
وہی تو منزل مقصود پائیں گے اپنی
چلے ہیں جو کہ انھیں رہنما بنائے ہوئے
لٹا ہے قافلہ، زینب ہی رہ گئی باقی
وفائے خون شہیداں کا بوجھ اٹھائے ہوئے
سکینہ روئی جو ہائے، مرے چچا ! کہہ کر
تو پوئے خیمے میں سجاد تلملائے ہوئے
بنہ کے گھر کا ہر اک فرد ہے زمانے میں
لہو سے اپنے چراغ وفا جلائے ہوئے
جو اہل بیت نبی کی نہیں ہے الفت یہ
تو کس لئے ہیں یہ آنکھوں میں اشک آئے ہوئے
یہی تو عون و محمد وہ دو ستارے ہیں
جو کربلا کے افق پر ہیں جگمگائے ہوئے
بہایئں اشک نہ کیوں زار زار ہم رومی !
ہمیں تو پھر علی اصغر ہیں یاد آئے ہوئے Khalid Roomi
وہی تو اپنا جہاں آپ ہیں بسائے ہوئے
خوشی خوشی ہیں رواں کربلا کی منزل کو
بڑھے ہیں موت کی جانب تو مسکرائے ہوئے
حسین ابن علی کے سوا تھا کون ایسا؟
خدا، رسول کا پرچم چلے اٹھائے ہوئے
یہ ماتم غم شبیر ہے حقیقت میں
زمین دشت ہے اب تک جو خاک اڑائے ہوئے
یقین ان کا مٹائیں گے کیا یہ وہم و گماں
جنھیں وہ خود مئے توحید ہیں پلائے ہوئے
فلک اداس، زمیں چپ، فضا پریشاں ہے
غم و الم کے بہر سو ہیں ابر چھائے ہوئے
بپا ہوا ہے قیامت کا شور خیموں میں
حسین آئے جو اصغر کی لاش اٹھائے ہوئے
وہ قاسم و علی اکبر جواں مجاہد تھے
عدو بھی جن کے مقابل تھے لڑکھڑائے ہوئے
وہی تو منزل مقصود پائیں گے اپنی
چلے ہیں جو کہ انھیں رہنما بنائے ہوئے
لٹا ہے قافلہ، زینب ہی رہ گئی باقی
وفائے خون شہیداں کا بوجھ اٹھائے ہوئے
سکینہ روئی جو ہائے، مرے چچا ! کہہ کر
تو پوئے خیمے میں سجاد تلملائے ہوئے
بنہ کے گھر کا ہر اک فرد ہے زمانے میں
لہو سے اپنے چراغ وفا جلائے ہوئے
جو اہل بیت نبی کی نہیں ہے الفت یہ
تو کس لئے ہیں یہ آنکھوں میں اشک آئے ہوئے
یہی تو عون و محمد وہ دو ستارے ہیں
جو کربلا کے افق پر ہیں جگمگائے ہوئے
بہایئں اشک نہ کیوں زار زار ہم رومی !
ہمیں تو پھر علی اصغر ہیں یاد آئے ہوئے Khalid Roomi
سلام بحضور امام حسین علیہ السلام حسین ابن علی روشن و تابندہ ستارا ہے
مقام اس کا مہ و انجم کی صورت آشکارا ہے
یہاں آل نبی کی یاد جس کو ناگوارا ہے
اس کم ذات کی تقدیر میں لکھا، خسارا ہے
حسینیت سے منہ پھیریں، یہ جیتے جی نہیں ممکن
یہی دولت ہماری ہے، یہی ورثہ ہمارا ہے
رکھیں گے لاج وہ بیشک ہر اک اپنے پرائے کی
قیامت میں محمد کے نواسوں کا سہارا ہے
جو دیکھا گھوڑے کو میدان سے آتے ہوئے خالی
تو ادرکنی محمد کہ کے زینب نے پکارا ہے
کلیجہ پھٹ گیا پیر فلک کا بھی، زمیں لرزی
ستمگر نے جو اصغر کے گلے پر تیر مارا ہے
گئے عون و محمد، قاسم و اکبر، علی اصغر
نہ لوٹا ہائے ! کوئی گھر، بہت ماں نے پکارا ہے
نہیں جاہ و حشم کی کچھ، یہ باتیں آگہی کی ہیں
یہ پوچھو اہل دل سے کون جیتا، کون ہارا ہے؟
فضائیں گونج اٹھیں چار سو اللہ اکبر سے
اذان حضرت اکبر کا کیا دلکش نظارا ہے
مؤرخ اس کو رومی ! گر لکھے بھی تو نہ لکھ پائے
سر مقتل وفا کا قرض زینب نے اتارا ہے Khalid Roomi
مقام اس کا مہ و انجم کی صورت آشکارا ہے
یہاں آل نبی کی یاد جس کو ناگوارا ہے
اس کم ذات کی تقدیر میں لکھا، خسارا ہے
حسینیت سے منہ پھیریں، یہ جیتے جی نہیں ممکن
یہی دولت ہماری ہے، یہی ورثہ ہمارا ہے
رکھیں گے لاج وہ بیشک ہر اک اپنے پرائے کی
قیامت میں محمد کے نواسوں کا سہارا ہے
جو دیکھا گھوڑے کو میدان سے آتے ہوئے خالی
تو ادرکنی محمد کہ کے زینب نے پکارا ہے
کلیجہ پھٹ گیا پیر فلک کا بھی، زمیں لرزی
ستمگر نے جو اصغر کے گلے پر تیر مارا ہے
گئے عون و محمد، قاسم و اکبر، علی اصغر
نہ لوٹا ہائے ! کوئی گھر، بہت ماں نے پکارا ہے
نہیں جاہ و حشم کی کچھ، یہ باتیں آگہی کی ہیں
یہ پوچھو اہل دل سے کون جیتا، کون ہارا ہے؟
فضائیں گونج اٹھیں چار سو اللہ اکبر سے
اذان حضرت اکبر کا کیا دلکش نظارا ہے
مؤرخ اس کو رومی ! گر لکھے بھی تو نہ لکھ پائے
سر مقتل وفا کا قرض زینب نے اتارا ہے Khalid Roomi