Khud Sy Milny Ki Fursat Kisay Thi

Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahore

Ajub Mosam Tha Rana-Ii Liye
Dast E Ghurbat Main Shanasa-Ii Liye Howy
Dhop Dhalki Hui
Aber Phaily Howy
Lehja Puzmarda, Nigahain Pakob Liye
Anna Ka Toq Tha Kandho Pe Saja Howa
Benutaq Sadao Ka Shor
Halqoom Main Phansa Howa
Agahi K Soraj Pe Dastak Thi Kali Rat Ki
Main Thi Tanha
Or Hamrah Dilband Ki Zat Thi
Tirmara Raha Tha Kuch
Band Nigahoo K Samny
Labo Pe Tashbib Thi
Ik Kamzerf Ki Cha Main
Kis Qader Hajoom Tha Khamoshi Ki Ghaat Main
Khud Sy Milny Ki Fursat Kisy Thi
Tayaqun K Hisab Main
Haroof Mehfom Kho Chuky Thy
Alametain Sub Banjh Thi
Haqiqatoo Ki Berhangi Thi
Jism O Jam Main Otri Hui
Ik Weham Tha Zehan Main
Sang Dilbund Ki Zat Thi
Lakin Uff Ry Dermanda Muhbet
Woo Mehrba Saya Mera
Khamoshi Ki Rot Main Chory Jany Kub Ka Ja Chuka
Os Sy Keasy Milti...Kesy Rokti Osy
Abhi Tu Khud Sy Mili Nahi Thi
Abhi Tu Main Khush Fehm
Gulab Kaliya Chun Rahi Thi
Haar Peroya ...... Khab Sajaye
Lakin Abb.....Is Aks K Dundhlakoo Main
Khud Sy Milny Ki Fursat Kisy Thi
 

Rate it:
Views: 624
27 Apr, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL