Kisa E Ulffat

Poet: Momo Choudhry By: Momo Choudhry, karachi

Tum Ko Kisa E Ulffat Sunain Kia
Tum Ko Acha Shair Sunain Kia

Ik Pekar E Naz Hay Khyalon Main
Dunya Ka Tam Jham Batain Kia

Apni Kismat Toti Photi Hi Sahi
Rub Ko Ilzam Lagain Kia

Tum Ko Kisa E Ulffat Sunain Kia
Tum Ko Acha Shair Sunain Kia

Apni Shairy Hay Izhar Ka Zarya
Kalum Ko Khon Main Daboyan Kia

Dil Kay Bund Durwazay Ger Khol Doon
Naqamya E Mohubat Sunain Kia

Tum Ko Kisa E Ulffat Sunain Kia
Tum Ko Acha Shair Sunain Kia

Apni Shikast Ko Muskura Ker Seh Jain
Dil Kay Daag Tum Ko Dikhain Kia

Baharain Kub Hum Ko Sada Dati Hain
Apni Kham Khyali Tum Ko Batain Kya

Tum Ko Kisa E Ulffat Sunain Kia
Tum Ko Acha Shair Sunain Kia

Umr Kay Akri Pehar Main Hum Naveed Suntay Hain
Apni Khosh Fehmi Ka Raaz Tum Ko Batain Kia

Yeh Soch Ker Jaan Say Guzer Jain Gay
Apnay Mehboob Ka Pata Tum Ko Batain Kia

Tum Ko Kisa E Ulffat Sunain Kia
Tum Ko Acha Shair Sunain Kia

Muqadar Ki Syahi Badli Hay Na Badlay Gi
Shikasta Dili Apni Tum Ko Batain Kia

Khali Ayay Thay Khali Chalay Jain Gay
Apna Pehron Chup Ker Rona Tum Ko Batain Kia

Tum Ko Kisa E Ulffat Sunain Kia
Tum Ko Acha Shair Sunain Kia

Rate it:
Views: 588
01 Dec, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL