Kuch Khadshey Zahir Hotey Hain

Poet: By: Daniyal, fsd

Kuch Soch K Dur Khatkhatety Hain
Jhoota Such Ik Sunnatey Hain

Kuch Khadshey Zahir Hotey Hain
Kuch Jazbey Qair Hotey Hain

Kuch Khawab Se Haaley Dikhtey Hain
Kuch Tadberain Mantuk Hoti Hain

Kuch Qissey Adhorey Hotey Hain
Kuch Zaat K Hissey Hotey Hain

Kuch Maat K Maatum Hotey Hain
Kuch Raat K Soraj Hotey Hain

Kuch Din Bhi Andherey Hotey Hain
Kuch Sehra Samunder Hotey Hain

Kuch Phool Mizar Pe Charhty Hain
Kuch Zulf Ki Zeenat Bantey Hain

Kuch Jawab Sawal Bhi Bantey Hain
Kuch Bin Mangey Khali Hath Kion Taktey Hain

Kuch Banjer Khiliyan Bhi Khiltey Hain
Kuch Ansoo Hont Pe Sajtey Hain Hain

Kuch Kajel Surkhyi De Jatey Hain
Kuch Aas Se Piyas Berhatey Hain

Kuch Chashmey Gard Bhatey Hain
Kuch Gardab Main Ghar Banatey Hain

Kuch Kantoon Pe Saij Sajatey Hain
Kuch Hr Pal Bisaat Bichatey Hain

Kuch Khud Ko Daoo Pe Lagatey Hain
Kuch Tum Sa  Jatatey Hain

Kuch Shiknoun Pe So Jatey Hain
Kuch Taroun Se Shub Bhar Takratey Hain

Kuch Apni Hi Lakeroun Main Khud Ko Hi Uljhatey Hain
Kuch Khud To Ji Nahi Patey Tumjesoun Pe Mar Jatey Hain

Rate it:
Views: 644
12 Nov, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL