Kya Tumhe Yaad Hai
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiKya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Jheel Ke Us Kinaare Pe Milna Mehaz
Haath Mai Haath Lekar Ke Chalna Mehaz
Guftgoo Se Bhari Teri Khamoshiyan
Teri Zulfon Mai Uljhi Meri Ungaliyan
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Sunheri Se Paani Aks Tera
Aur Us Aks Pe Phir Wo Naks Mera
Kisi Titli Si Nazuk Adaaein Teri
Saaf Saffaq Si Wo Wafaaein Meri
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Chaand Sa Tera Chehra Mere Haath Mai
Har Ghadi Har Lamha Tu Mere Saath Mai
Muskurati Subha Se Tere Kekahe
Wo Mohabbat Bahre Sab Haseen Ratjage
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Youn Zamane Ki Baaton Pe Kar Na Yakeen
Inki Baaton Mai Hoti Hai Dhoka Dhadi
Ye Kaha Tha Kabhi Maine Jaane Wafa
Ab Dohra Raha Hun Wahi Dastaan
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai
Kya Tumhe Yaad Hai.
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






