Lafz

Poet: Ahmer Sahaab By: Bilal Shafi, Jhang

Lafz .. Kitny E Hon 
Hm Bhaly Kitni Hi Baten Kr Len 
Mgr 
Kahin Na Kahin, Adhura-Pan To Reh Hi Jata Hy 

Mujy Bs Tm Sy Baten Nhe Krna Hoti 
Tmhari Khamshi Bhi Meri Hm-Raz Hy

Mujy Sach M Nhe Pta K . . Es Duniya M Mery Liye Kia Sb Sy
Khas Hy
K Mein Jis Ki, Khwahish M Jiye Jaon 

Bar' Ha Socha .. Mgr
Khuda K Siwa , Sbhi Kuch Na-Mukamal Sa Paya 

To Mujy Bhi Mukamal Hony Ki Koi Khwahish Nhe

Sach Kahon To Bs Ik Wahi Hy 
Jo Mery Ansu Bhi Kharid Leta Hy 
R Mujy Sila Dyta Hy Meri Talab K Mutabik

Sunu .. M , Ik Na Mukamal Sa Insan Hn
R Tumhary Liye Meri, Sbhi Chaahten Bhi

Bs Khuda Hi Mukamal Hy 
Us Ny Apna Naam Muhib Rakha Hy
R Whi Eska Haqdar Hy 
Mgr
Meri Khwahishen Bhi Ajib Hn .. K
M Bhi Tmhen Aesy Hi Chahun .. Jesy
Wo Mujy Chahta Hy

Janta Hn , Ye Mery Bs M Nhe
Tmhari Kmi To Ab Meri Adat Bn Hi Chuki Hy 
M Chahata Hn K Mery Sabr Pr Wo Bhi Muskuray 
Dr Asal
Mujy Meri Hi Kahaani Pasand Hy Jo
Wo Likh Rha Hy 
Whi Jo Mukamal Hy ! R Sbhi Kuch Mukamal Krta Hy 
Adhura-Pn To Bs, Ankhun Ka Na Dekh Pana Hy

Meri Kahani Bhi Mukumal Kr Hi Dy Ga 

Es Kahani M Uska Nam Muhib Hy 
Muhabat Krny Wala 
Hr Khata Ko Dr Guzar Krny Wala
Moh Mory Huwon K Wapis Palat Any Ka
Intzar Krny Wala
Daghdaro Ka Bharam Rakhny Wala

Na Jany Kyu ... Mjy Bhi
Tumhary Liye
Muhib Hona Hy

Rate it:
Views: 954
28 Apr, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL