Love Poetry in Urdu For Girlfriend
Poet: Unknown By: Anila, KarachiJab Se Is Dil Mein Teri Yaad Basai Hai Sanam
apni hasti to iss hasti se mitayi hai sanam
eid agar naam hai didarِ rukh e MEHBOOB ka to
mein ney kab aaj talak eid manayi hai sanam
mein to mashhoor hi majnu hon magar to lailh hai
yeh khabar kis ney zamane mein udai hai sanam
ehley duniya ney lagaya yeh tamasha magar afsos
aaj is bazm mein to bhi tamashaayi hai sanam
meri parwaaz ke aflaaq faqat tairay qadam
tairay qadmon hi talak meri rasai hai sanam
mein ney to aankh se dekha hi nahi chehra Shahmeer
bas faqat aankh tri reh mein bichai hai sanam
In Urdu:
جب سے اِس دِل میں تری یاد بَسائی ہے صنم
اپنی ہستی تو اِس ہستی سے مِٹائی ہے صنم
عید اگر نام ہے دیدارِ رُخِ مَحبوب کا تو
میں نے کب آج تَلک عید منائی ہے صنم
میں تو مشہور ہی مجنوں ہوں مگر تو لیلہ ہے
یہ خبر کس نے زمانے میں اُڑائی ہے صنم
اہلِ دُنیا نے لگایا یہ تماشہ مگر افسوس
آج اس بزم میں تو بھی تماشائی ہے صنم
میری پرواز کے اَفلاک فقط تیرے قدم
تیرے قدموں ہی تلک میری رسائی ہے صنم
میں نے تو آنکھ سے دیکھا ہی نہیں چہرہ شاہؔ میر
بس فقط آنکھ تری رَہ میں بچھائی ہے صنم
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






