Main Bhe Jo Badal Jaon
Poet: Asim Rafiq Sheraz By: Asim Rafiq Sheraz, LahoreMain Bhe Jo Badal Jaon Tumhain Kysa Lagy Ga
Ban Jaon Agar Tum Sa Tumhain Kysa Lagy Ga
Pal Pal Jo Muj Ko Janam Satta Rahy Ho Tum
Aik Pal Jo Main Sattaon Tumhain Kysa Lagy Ga
Tumne Jo Deya Dard Mujy Sony Nahi Dyta Rat Bhar
Koe Tum Ko Jagay Aik Rat Tumhain Kysa Lagy Ga
Aik Arsy Sy Musalsal Rula Rahy Ho Muj Ko
Aik Bar Jo Main Rulaon Tumhain Kysa Lagy Ga
Krty Nahi Ho Aaj Kal Koe Bhe Bat Hum Sy
Main Bhe Na Bulaon Agar Tumhain Kysa Lagy Ga
Hr Roz Bulaty Hain Tum Ko Pr Na Atty Ho Tum
Aik Roz Tum Bulao Main Na Aoon Tumhain Kysa Lagy Ga
Muj Ko Mashhor Bywafa Krty Ho Hr Jaga Tum
Koe Tum Ko Kahey Bywafa Tumhain Kysa Lagy Ga
Aik He Hamsafr Ho Tera Veran Zindagi Main
Wo Bhe Badal Ly Apna Rasta Tumhain Kysa Lagy Ga
Krty Ho Roz Sitam Neya Dyty Ho Roz Neya Zakham
Tum Ko Bhe Lagy Aik Zakham Neya Tumhain Kysa Lagy Ga
Aik Din Guzarna Pary Gar Tum Ko Es Tarha
Pher Batana Muj Ko Tumhain Kysa Lagy Ga
Jeena Azab Ho Ga Pal Pal Maro Gy Tum
Kehta Hy Ye Sheraz Tumhain Kysa Lagy Ga
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






