Main Tere Pyaar Me

Poet: Poonam Ana By: Poonam Ana, Karachi

Main Tere Pyaar Me Aaj Tak Royi Nahi Lekin
Najaane Aaj Meri Aankh Kyun Maghmoom Hogayi

Teri Tasveer Jise Ab Talak Dill Se Lagaya Tha
Teri Tasveer Wo Najane Aaj Kidhar Kho Gayi

Tune Dunya Ki Is Bheerh Me Chorha To Kiya Gham
Main Pehle Bhi Akeli Thi Akeli Phir Se Hogayi

Tu Mujh Se Rooth Na Jana Manane Kaise Aaungi
Main Tere Pyaar Me Aakhir Khud Hi Se Dur Hogayi

Main Tujhse Pyaar Karti Hun Tujhe Maloom Bhi Nahi
Main Tere Pyaar Me Aakar Kitni Majboor Hogayi

Teri Zindagi Me Gar Koi Aur Hai To Bool
Main Dunya Se Kahungi Khud Hi Main Mansookh Hogayi

Agar Main Jurm Karun To Kabhi Aankhein Na Dikhana
Main Tumko Dekh Kar Samjhungi Main Maruoob Hogayi

Agar Kuch Galat Dekho To Kabhi Bhi Shak Mat Karna
Main Tum Ko Dekh Kar Samjhungi Main Mashkook Ho Gayi

Mere Naam Ko Zameen Pe Kabhi Likh Kar Na Mitaana
Samajhna Apne Hi Hathoon Main Khud Maadoon Hogayi

Tune Chorh Jane Ki Jab Bhi Baat Mujhse Ki
Kiya Tu Yeh Janta Nahi Main Kyun Maghmoom Hogayi

Agar Main Marr Bhi Jaaun To Dafnaane Nahi Aana
Samajhna Apne Hi Hathoon Main Khud Madfoon Hogayi

Rate it:
Views: 1558
20 Apr, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL