Main Tumharay Aks Ki Aarzoo Mein
Poet: javaid By: javaid, multanMain Tumharay Aks Ki Aarzoo Mein Bass Aayina Hi Bani Rahi
Kabhi Tum Na Samnay Aa Sakay, Kabhi Mujh Pay Gard Pari Rahi
Woh Ajeeb Shaam Thi,Aaj Tak Meray Dil Mein Uss Ka Malal Hai
Meri Tarah Jo Teri Muntazir, Teray Rastay Mein Khari Rahi
Kabhi Waqf-E-Hijr Main Ho Gaei,Kabhi Khwab-E-Wasl Mein Kho Gaei
Main Faqeer-E-Ishq Bani Rahi, Main Aseer-E-Yaad Huwi Rahi
Bari Khamshi Say Sarak Kay Phir Meray Dil Kay Gird Lipat Gaei
Woh Rida-E-Abr-E-Sfed Jo Sar-E-Kohsar Tani Rahi
Hue Uss Say Jabb Meri Baat Bhi,Thi Shareek-E-Dard Woh Zaat Bhi
Toh Na Janay Kon C Cheez Ki Meri Zindgi Mein Kami Rahi?
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






