Tere Sang Bitaya Hua Har Lamha Yaad Ata Hai Mujhko
Poet: javaid By: javaid, multanTere Sang Bitaya Hua Har Lamha Yaad Ata Hai Mujhko
Chale Aao Ke Yeh Hijr Ki Raatain Bohat Rulaati Hain Mujhko
Tere Aashiyane Ko Jaana, Hum Bhala Kese Aajaye
Tere Sheher Ke Log Bohat Satate Hain Mujhko
Tu Chahe Kitna Hi Chupaa Le, Mein Phir Bhi Janta Hoon
Teri Soch Har Mehwar Yaad Karta Hai Mujhko
Khud Mein Jhaankta Hoon Tou Yeh Khayal Ata Hai
Bin Tere Jeena Bhi Muhaal Lagta Hai Mujhko
Mein Andheron Ki Nagri Ka Kamzor Sa Musafir
Ab Ujaalon Ki Musaaftain Kahan Raas Ati Hain Mujhko
Tere Deed Ki Pyaas Hi Ab Taskeen Deti Hai
Teri Miti Huyi Arzuyain Hi Chain Deti Hain Mujhko
Ae Husnain Tamasha Dekhne Wale Koi Kam Tou Na They
Ruswayiyon Ke Soghaat Diye Tere Apnon Ne Mujhko
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






