Meri Beti Rimsha K Name

Poet: نازيه حيدر By: Binte Shafi Haidar, karachi

Me Ne Hath Dua K Uthae Hain
Or Kaasa-E-Dil Phailaya Hai
Mere Lab Janbish Se Guraizaan Hain
Tere Huzoor Sir Ko Jhukaya Hai
Mere Malik!
Aaj K Din
Tu Rahmato K Saaye Chaar Su Phaila De
Iss Zameen Or Purbatt Ko
Roshniyo Se Nehla Day
Jo Bhi Haath Aaj Dua Ko Uthain
Un Duaon Ko Pura Ker De
Jo Bhi Daaman Aaj Tere Aagay Phaile
Uss Daaman Me Khushya Bhar De
Meri Laadli Ki Saalgirah Hai Aaj
Mere Mola!!
Ekk Maa Ne Aanchal Philaya Hai
Qalam Utha Or Likh Dena
Do Jahaano Ki Khushya
Maa Baba Ki Farmabardari
Dadi Dada Ki Bay Laus Dua
Chachi Chacha Ka Bay Inteha Pyar
Achay Dost  Or Pakkay Rishte
Naik Amal Or Sachchy Rastay
Meri Bittya Jb Bhi Muskurae
Dil Se Labo Pe Hansi Wo Aye
Meri Bittya Jahan Bhi Qadam Ye Rakh De
Phool He Phool Chaar Su Khil Jae
Khushi K B Na Ayen In Ankho Me Ansoo
Teri Raza Usay Mil Jae
Meri Laadli Ki Saalgirah Per Koi Dil Na Giraftaa Ho
Mill Jae Sab Ko Khusi
Koi Dil Bhi Na Tarapta Ho
Meri Jaan Her Mehfil Ki Jaan Ho
Or Pura Mera Ye Armaan Ho
Mere Malik!!
Mere Mola!!
 

Rate it:
Views: 1900
16 Jun, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL