Meri Raato'n Ki Nendo'n K Tawaan Banaa Rakhay Gain
Poet: S. Sadia Amber Jilani By: Syeda Sadia Amber Jilani, FaisalAbad, Punjab, Pakistan.Meri Raato'n Ki Nendo'n K Tawaa'n Bana Rakhay Hain
Meri Ta'abeero'n Nay Meray Khuab Chura Rakhay Hain
Ab Khamoshio'n Mein Masroof-E-Safar Hun Main
Lafaz Main Nay Sabhi Uss Ko Suna Rakhay
Kaisay Mumkin Hai Khata Ho Chaal Teri
Raaz Apnay Khud Tujh Ko Bata Rakhay Hain
Aana-E-Zaat Ka Bujha K Har Ik Shola
Deep Hum Nay Wafaaon K Jala Rakhay Hain
Nishaa'n Bhi Meray Gawara Nahi Un Ko
Naam Jin K Kabhi Haroof-E-Dua Rakhay Hain
Ik Teri Chah Ik Teri Wafa Ki Khatir
Miyaar Apnay Hum Nay Giraa Rakhay Hain
Tujh Ko Batanay K Liye Apni Hakeekat
Ansoo Kai Khud Mein Chupa Rakhay Hain
Yeh Mumkin Hi Nahi Tu Milay Na Mujh Ko
Hum Nay Youn Hi Tu Nahi Haath Phailaa Rakhay Hain
Main K Manzil Ki Talash Mein Sargarda'n
Wapasi K Sabhi Rastay Bhoola Rakhay Hain
Ik Dard Safar Hai Hakeekat Mein Muhabat Amber
Logo'n Nay Tu Bass Afkaar Saja Rakhay Hain
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






