Mohabbat Kuch Nahi Hotii

Poet: Smile Pain By: Smile Pain, Jehlum

Mujhey Aksar Wo Kehtii Thii Mohabbat Kuch Nahi Hotii
Hijjr Ka Khouf Be-Matlab Vasal Key Khwaab Be-Maanii

Koii Soorat Nigaahon Mein Khaan Din Raat Rehtii Hai
Usey Kyon Khaamshii Kahiye K Jis Mein Baat Rehtii Hai

Yeh Aansoo Be Zubaan Aansoo Bhala Kya Bol Saktey Hain
Kahaan Dil Mein Kisi Ki Yaad Sey Toofaan Uth-Tey Hain

Kahaan Palkon Key Saaye Mein Namii Din Raat Rehtii Hai
Kahaan Hotii Hain Wo Aankien Jhaan Barsaat Rehtii Hai

Mujhey Aksar Wo Kehii Thi Mohabbat Kuch Nahii Hotii
Magar Jab Aaj Barson Baad Main Ney Us Ko Dekha Hai

K Uss Kii Jheel Aankhon Mein Hijjr Ka Khouf Rehta Hai
Vasal Key Khwaab Rehtey Hain Wohi Barsaat Rehtii Hai

Ye Adat Hai Kaii Raaton Sey Wo Soii Nahii Shaayed
Yon Lagta Hai Kisi Kii Yaad Ab Din Raat Rehtii Hai

Aur Us Kii Narm Palkon Key Haseen Saaye Bhii Geelay Hain
Aur Us Kii Khaamoshii Aisi K Jis Mein Baat Rehtii Hai

Mujhey Ab Wo Nahii Kehtii Mohabbat Kuch Nahii Hotii
K Har Dewaar Par Ab Wo Kisi Ka Naam Likhtii Hai

Rate it:
Views: 665
25 Jan, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL