Muhabat Kartay Ho Tu Rulatay Q
Poet: S. Sadia amber jilani By: Syeda sadia amber jilani, Faisalabad, Punjab, Pakistan.Muhabat Kartay Ho Tu Rulatay Q Ho
Paas Aa Kar Phir Door Jatay Q Ho
Muhabat Ahsas Hai Tu Batao Naa Zara
Hasas Logo'n Ko Tum Satatay Q Ho
Apni Okaat Mein Rehnay Nahi Detay Hum Ko
Bassa K Nighahun Mein Phir Giratay Q Ho
Jab Yeh Tay Hai Tum Hamaray Nahi
Roz Meri Yaad Mein Chalay Aatay Q Ho
Ab Tu Shyed Ussay Naam Mera Yaad Bhi Ho
Dill-E-Nada'n Tum Baat Bharrhatay Q Ho
Hum Nay Mana K Kuch Bhi Nahi Hum
Tum Bhala Khud Ko Jalatay Q Ho
Hum Tu Parrh Letay Hain Aankho'n Say Hakeekat
Khokhlay Lafzo'n Say Meri Jaan Chupatay Q Ho
Ayaa'n Bhi Huaye Jatay Ho Mujh Pay Tum
Meray Shouq Pay Phir Khud Ko Chupatay Q Ho
Jhoot Hain Tu Hum Say Turk-E-Tualok Hi Sahi
Sach Hain Gar Tu Daaman Bachatay Q Ho
Uss Nay Pocha Bhi Tu Mera Haal Naa Pocha
Uss Nay Pocha Ab Bhi Nibhatay Q Ho
Uss Say Tawako Bhi Nahi Rafogari Ki Amber
Dill Ko Samjhao Ussay Haal Sunatay Q Ho
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






