Muhabbat Chup Nahi Rehti
Poet: Mir Hasan By: Mir Hassan Rind, karachiWoh Boli, Phir Palat Aye,Chalay To Phir Palat Aye
Main Bola, Band Koochay Ka Safar Hay Zindagi Apni
Woh Boli, Har Sarrak Jati Hay Gham K Shehar Ki Janib
Main Bola, Aur Agar Woh Shehar Apney Dil Mein Ho To Phir?
Woh Boli, Gham Hamesha Sath Deta Hay Museebat Mein
Main Bola, Ik Zara Thehro Mujhay Kuch Ghor Se Dekho
Woh Boli, Kya Zaroori Tha Mujhay Tum Sath Hi Rakhtey?
Main Bola, Rooh Bin Main Jism Kya Karta, Kahan Jata?
Woh Boli, Aa Gaya Hay Raitla Mausam Judayi Ka
Main Bola, Main Tera Sehra Nord Mutaqil Thehra
Woh Boli, Rait Urrti Hay To Aankhon Mein Bhi Parti Hay
Main Bola, Dard Ki Maari Hui Aankhon Ko Iss Se Kya
Woh Boli, Soch Lo Iss Dhoop Mein Kantey Barastey Hain
Main Bola, Yeh To Acha Hay Bohut Par Phool Mehkein Ge
Woh Boli, Raat Zakhmon Par Bohut Teesein B Barsein Gi
Main Bola, Zakhm Par Zakhmon Ko Seh Janey Ki Aadat Hay
Woh Boli, Aarzooun K Lahu Ka Zaiyeqa Kya Hay?
Main Bola, Talkh Hay Meetha Hay Karrwa Hay Raseela Hay
Woh Kehti Hay, K Main To Maang Mein Suraj Sajaon Gi
Main Kehta Hoon, K Suraj Ki Wazahat Ho Magar Pehaley
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







