Muhabbat ki Nazam

Poet: khalid Saleem By: Khalid Saleem, Multan

Chashmey Wali Bat Suno Na
Dil Pe Mere Hath Rakho Na
Ik Lamha Mehsus Kro Na
Tere Naam Ki Sargam He Bs
Husn-O-Pyar Ki Sari Baten
Tere Naam Ka Sangam Hen Bs
Baagh Me Har Soo Taza Taza
Tere Hi Rang K Phool Khiley Hen
Teri Sanson Ki Khusbu Se
Har Dam Kitney Mehak Rhe Hen
Tera Rang He K Suraj He
Zulfen Hen Ya Ik Badal He
Teri Baali Phool Ki Daali
Gaalon Pe He Shafaq Ki Laali
Chehra Jese Phool Khila He
Ankhen Hen Ya Jaam Dhara He
Tere Honton Ki Narmahat
Jese Konpal Khilney Lgi Ho
Zulfon Aur Gardan Pe Jese
Sham Aur Sub'hu Milney Lgi Ho
Itni Sari Husn Ki Dault
Pr Jese Darban Khara He
Jan Tmharey Gaal Ka Ye Till
Mujhko Buht Acha Lgta He
Chashmey Wali Bat Suno To
Tum Nazuk C Ik Guria Ho
Pyar Ka Khail Buht Jokham He
Kya Tm Is Ko Seh Pao Gi?
Khalid K Bin Reh Pao Gi?
Jis Ne Apni Har Dharkan Ko
Tmse Hi Mansub Kiya He
Tere Husn Ka Kalma Parh Kr
Tere Ishq Ko Sajda Kiya He
Chashmey Wali Bholi Guria
Kya Tm Sath Nibha Paao Gi?
Ya Rasty Me Thak Jaao Gi...?

Rate it:
Views: 1846
26 Apr, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL