Muhabbat Tou Khush Guma Hai
Poet: By: Saba Ahmed, karachiTumhari Angushtari Ke Nag Mai
Meri Muhabbat Chamak Rahi Hai
Agar Kabhi Ye Guma Guzre
Ke Tumhain Main Bholne Laga Ho'n
Tou Is Nageene Ko Dekh Lene
Meri Nigaho Ki Jagmagahat
Tumhari Ankhon Se Ye Kahe Gi
"Suno Muhabbat Tou Khush Guma Hai"
Agar Koi Bugz-E-Dil Ka Maara
Nazar Se Toota Hoa Sitara
Tumhare Seene Main Waswaso Ke
Kaseele Khanjar Utarta Ho
Ke Wo, Jo Dil Phaink-O-Bewafa Hai
Ke Wo, Jo Sab Pe Farefta Hai
Ke Wo, Jo Pardes Ja Basa Hai
Tumhain Bhanwar Beech Chor De Ga
Wafa Ke Sab Qaul Toor De Ga
Tou Is Se Pehle Roo Paro Tum
Tou Is Se Pehle Jal Bojho Tum
Tou Is Se Pehle Ke Ye Kaho Tum
Wo Ahd-O-Peman Sab Ghalat They
Wafa Ke Unwaan Sab Ghalat They
Sehar Ke Imkaan Sab Ghalat They
Tum Apni Angusht-E-Dilruba Per
Gulaab Chehra Jhuka Ke Kahna
"Suno Wo Sach Muj Hi Bewafa Hai?"
Tumhara Roota Sawal Sun Kar
Ye Shookh Nag Muskura Pare Ga
Muhabbaton Ke Safeer Ban Ke
Ye Surkh Nag Aur Haseen Anguthi
Meri Numaindagi Karain Ge
Tumhare Chehre Se Cheaar Karte
Tumhari Ankhon Ke Rang Parhte
Tumhare Baloo Pe Hath Rakh Ke
Tumhare Galoo Ko Thapthapa Ke
Haseen Angushtari Kahe Gi
"Suno Muhabbat Tou Khush Guma Hai"
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






