Muje Tumse Ye Kehna Hey,

Poet: AFREEN KHAN By: SARA KHAN, LAHORE

Muje Tumse Ye Kehna Hey,
K Chahey Kuch Bhi Ho Jai,
Kbi Udaaas Mt Hona,
Kbi Tanha Na Tum Rona,
K Tum Maghmoom Ho Jao,
Tou Meri Shokh Duniya Mey,
Koi Bhi Rang Nahi Rehta...!!!!

Muje Tumse Ye Kehna Hey...
Tumhari Ankhon Mey Jb Jb,
Tumhara Gham Jo Cha Jai,
Koi Aansoo Jo Ajai,
To Uspal Meri Ankhein Bhi,
Achanak Bheeg Jati Hain,

Muje Tumse Ye Kehna Hey....!!!!
Kbi Tum Chot Khao Tou,
Muje Bhi Dard Hota Hey,
Mera B Dil Ye Rota Hey,
Tumhey Takleef Jo Ponchey,
Wo Mey Mehsoos Krti Hoon,

Muje Tumse Ye Kehna Hey,
Muje Tum Kyun Ye Kehtey Ho,
K Tumko Tanha Rehney Doon,
K Sb Kuch Tanha Sehney Doon,
Ye Hr Giz Ho Nahi Skta,
Mey Tum Bin G Nahi Skti,

Muje Tumse Ye Kehna Hey..
Muje Itna Bta Jao,
Muje Tum Kyun Statey Ho,
Kyun Mujse Tum Chupatey Ho,
Tumharey Dil Mey Jo Kuch Hey
Muje Maloom Hey Wo Sb,
Nahi Hasil Chupa Kr Kuch,

Muje Tumse Ye Kehna Hey
Muje Maloom Hey Bus K,
Khuda K Sab Isharey Bhi,
Meri Sochon K Dharey Bhi,
Muje Hr Pal Hr Ik Lamha,
Teri Janib Bulatey Hain,
Tumhi Ho Ye Btatey Hain,
Muje Tumnse Ye Kehna Hey

Rate it:
Views: 835
07 Feb, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL