Mujhay Apna Bana Laina
Poet: Ibrahim Essani By: Ibrahim Essani, KARACHIJis Pal Ko Taraste The Wo Ghari Aagai
Jis Aahat Ko Mere Ehsasat Dhoondte The Wo Shey Aagai
Is Judai Se Bikhar Gaya Tha Main To
Jis Ki Hasrat Thi Wo Aas Aagai
Buht Din Baad Dekhun Ga Main Tumhen
Apni Aagosh Men Samet Lena Mujhko
Is Tanha Safar-E-Zindagi Men
Mera Hamsafar Bana Lena Khud Ko
Tumhari Khushboo Men Behekna Chahta Hoon Main
Mujhe Khud Se Alag Mat Karna
Apni Sanson Ki Rawani Bana Lena Mujhko
Apne Jism Ka Badal Bana Lena Mujhko
Mehekti Kali Ki Tarah Mere Jism Ki Daali Se Tor Lena Mujhko
Apne Jism Ki Kisi Khubsoorat Daal Pe Saja Lena Mujhko
Main Waqt Ke Tufanon Men Phir Se Khona Nahi Chahta
Meri Zindagi Ko Apni Jayedad Bana Lena
Apni Zaat Bana Lena Mujhko
Apna Hissa Bana Lena Mujhko
Mere Jism Ki Banjar Zameen Ko Apni Chahat Ka Sahil Bana Lena
Apne Pyar Ke Samandar Ki Kuch Boonden Mujhe Pila Dena
Armaano Ka Anbaar Laga Hai Dil Mein Mere
Mujhse Mera Sab Kuch Chhen Lena Mujhe Kangal Bana Dena
Ab Kuch Nahi Chahye Mujhe Zindagi Se Aur
Jo Ho Zaroorat Mujhse Meri Zindagi Bhi Chura Lena
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






