Mujhey Darya Nahi Likhna
Poet: Mehreen By: Mehreen, karachiMujhey Darya Nahi Likhna Mujhey Sehra Nahi Likhna
Tasalsul Sey Safar Mey Hon Mujhey Thehra Nahi Likhna
Puraney Rabton Ki Rakhh Ab Tak Dil May Baqi Hay
Meri Jalti Hatheli Par Nya Wada Nahi Likhna
Ana Se Jeet Kar Usko Agar Jo May Ney Khoya Hay
Mera Noha Nahi Likhna Mera Naghma Nahi Likhna
Bisat-E-Zindagi Ki Aakhri Sarhad Pey Khara Hon
Mujhe Fateh Nahi Likhna Mujhe Muhra Nahi Likhna
Tumhray Aankh May Gar Mey Kabhi Chup Chap Jal Joan
Tum Apni Aankhon Mey Lekin Mera Sadma Nahi Likhna
Gawahi Apney Dil Sey Lo Tumhara Dil Kya Kehta Hay
Mujhe Jhota Nahi Likhna Mujhe Saccha Nahi Likhna
May Uski Yad Mey Gum Hon Key Apney Aap Mey Gum Hon
Mujhey Mehfil Nahi Likhna Mujhey Tanha Nahi Likhna
May Apnay Lafzon Sey Shuhrat Tumhay Dey Jaonga Ik Din
Mujhey Mash-Hoor Na Karna Mera Charcha Nahi Likhna
Ye Na Ho Tum Kabhi Usko Mitana Chaho?Na Mittey
Mujhey Apna Samjh Lena Magar Apna Nahi Likhna
Meri Aankhon Mey Batayn Hein Magar Chehrey Pey Gehri Chup
Meri Aankhain To Likh Dena Mera Chehra Nahi Likhna
Kahin Aisa Na Ho Meri Kasak Us Dil May Reh Jaye
Mera Dukh Dard Likh Dena Magar Gehra Nahi Likhna
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






