Namay-E-Amal Mien Apna Jurm-E-Mohabat Likha Os Ke Samnay Rakh Detay
Poet: Akram Durrani - California USA By: Akram Durrani, MultanEbadat Gahoon Ke Mabodoon Kee Bheer Me Tum Se Yoon Miltay
Sar Jhuknay Lagta Osay Wahien Tumaray Samnay Rakh Detay
Eqidadt Kay Os Gaam Par Kui Mor Anay Hee Hum Nahi Detay
Zahid Jitney Bhi Fatway Laga Ke Humaray Samnay Rakh Detay
Sar Takranay Kay Baad Chokhat Pay Marham Lagi Dekh Kar
Apni Himaqat Ka Pata Huta Tu Chokhat Ku Mathay Pe Rakh Detay
Naraz Gi Mein Zaban Ku Khanjar Ka Hadaf Denay Kee Zarorat Na Huti
Hukam Kartay Sar Apna Qalam Karkay Jahan Khetay Wahan Rakh Detay
Insaf Karnay Wala Saza Kay Tur Par Tumhien Hamray Sath Kar Deta
Namay-E-Amal Mien Apna Jurm-E-Mohabat Likha Os Ke Samnay Rakh Detay
Apni Ranjishoon Ku Zanjiroon Mein Badal Nay Say Tu Behtar Tha
Humain Dewar Me Chunwa Ke Mughloon Kee Tareekh Phir Say Likh Detay
Farz Karo Jis Kee Talash Thee Vo Kal Miljata Aghar Durrani
Phir Kis Kee Aas Mein Or Jetay Chiragh-E-Zindagi Gul Kar Ke Rakh Detay
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






