Parizad Drama Poetry (Lyrics)
Poet: Asrar By: Rabi, karachiHusan Kay Jazeeron Mian
Roop Kay Kinaron Par
Reshmi Andhray Hain
Surmae Ujalay Hain
Ik Naz Afreen Dil Par
Qabza Jamae Bethi Hai
Jisko Neel Ankhon Main
Neel Gun Sey Pialay Hain
Na Pooch Parizaadon Sey
Yeah Hijar Kase Jhela Hai
Yeah Tan Badan Tu Chalni Hai
Aur Roh Par Bhi Chlay Hain
Kase Jan Pao Gay
Ishq Main Kya Guzri Hai
Ktne Zakham Khae Hain
Ktne Dard Pale Hain
Saiyan Vay, Saiyan Vay
Saiyan Vay, Saiyan Vay
Kwahishon Kay Jangal Main
Hastraton Kay Bistar Par
Jisam Tu Gulabi Hain
Aur Dil Sia Kalay Hain
Main Roop Ka Pujari Hoon
Main Lafz Ka Bikhari Hoon
Lakin Jahan Main Basta Hon
Wahan Mandiron Pay Tare Hon
Kya Ishq Who Nibhaen Gay
Kya Husn Ko Sarahain Gain
Tareek Jinkay Chehray Hain
Muqadar Unkay Jagay Hain
Duahmano Say Kya Shikwa
Kya Gila Raqeebon Say
Yeah Sanp Asateeno Main
Hum Nay Khud He Pale Hain
Nah Pooch Parizaadon Say
Yeah Hijar Kase Jhela Hai
Yeah Tan Badan Tu Chalni Hai
Aur Rooh Par Bhi Chalay Hain
Kase Jan Pao Gay
Ishq Main Kya Guzri Hai
Ktne Zakham Khae Hain
Ktne Dard Pale Hain
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






