Q Us Ik Shaks Ko Dekhna
Poet: Tabb By: Tabb, SumbrialQ Us Ik Shaks Ko Dekhna
Bra Acha Sa Lgta Hai
Q Chupky Se Usy Takna
Bra Pyara Sa Lgta H
Usy Jidr B Betha Paon
Qadam Whin Ruk Se Jaty Hain
Main Ghanton Usko Takti Hon
Pr Ye Ankhy Nhi Bhrti
Ik Usko Dekhny Ki Khaatir
Mn Ghanton Intezaar Krti Hon
Eo Jb Ho Samny Betha
Mn Duniya Bhool Jati Hon
Mn Ye B Yaad Nhi Rakhi
K Ass Pas Bheer Hai Buhat
Mjy Esa Hi Lgta H
K Jese Samny Wo Hai
R Usy Chupi Hoi Mn Hon
R Nhi Is Mnzer Mn Koi
Bs Wo Hai R Bs Mn Hon
Bs Us Ik Shaks Ko Takna
Bra Acha Sa Lgta Hai
Bs Usko Dekhty Rhna
Bra Pyara Sa Lgta H
Pr Jb Usko Mehsoos Ho Jaye
K Do Ankhy Jo Chupky Se
Usy Dekhi Hi Jati Hain
To Wo Kbi Idr Kbi Udr
Jb Nzren Dorata Hai
To Uski Do Pyari Si Ankhy
Meri Ankhon Se Milti Hain
To Dil Ye Dhrak Sa Jata H
R Mn Gbra K Jldi Se
Wahan Se Bhaag Jati Hon
Pr Mjko Mehsoos Hota H
K Wo Do Pyari Si Ankhy
Mera Taaqub Krti Hain
Bs Us Ik Shks Ko Takna
Bra Acha Sa Lgta Hai
Bs Usko Dekhty Rhna
Bra Pyara Sa Lgta Hai
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






