Poetries by Qasim Baba
ستم بھی ترا ہم کرم دیکھتے ہیں ستم بھی ترا ہم کرم دیکھتے ہیں
نہ ٹوٹے یہ اپنا بھرم دیکھتے ہیں
جنوں سے بھی آگے کی منزل ہے اپنی
کہاں تک ملیں گے الم دیکھتے ہیں
حقیقت محبت کی پا کر رہیں گے
بہت عزم راسخ ہے ہم دیکھتے ہیں
نہ دولت کے بھوکے نہ شہرت کے طالب
ہم اہلِ قلم بس قلم دیکھتے ہیں
ادب کی زبانیں ہزاروں ہیں لیکن
ہو اردو کا اونچا عَلم دیکھتے ہیں
سرِ عام رودادِ الفت سنا کر
"تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں"
نظر میں کئی دوست آئے پرانے
زمانے کی چالیں جو ہم دیکھتے ہیں
نگہ جن کی ہوتی ہے منزل پہ قاسم
ستاروں کو وہ ہم قدم دیکھتے ہیں Qasim Mahmood
نہ ٹوٹے یہ اپنا بھرم دیکھتے ہیں
جنوں سے بھی آگے کی منزل ہے اپنی
کہاں تک ملیں گے الم دیکھتے ہیں
حقیقت محبت کی پا کر رہیں گے
بہت عزم راسخ ہے ہم دیکھتے ہیں
نہ دولت کے بھوکے نہ شہرت کے طالب
ہم اہلِ قلم بس قلم دیکھتے ہیں
ادب کی زبانیں ہزاروں ہیں لیکن
ہو اردو کا اونچا عَلم دیکھتے ہیں
سرِ عام رودادِ الفت سنا کر
"تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں"
نظر میں کئی دوست آئے پرانے
زمانے کی چالیں جو ہم دیکھتے ہیں
نگہ جن کی ہوتی ہے منزل پہ قاسم
ستاروں کو وہ ہم قدم دیکھتے ہیں Qasim Mahmood
محبت میں تیری وفا چاہتا ہوں محبت میں تیری وفا چاہتا ہوں
نہیں کچھ میں اس کے سوا چاہتا ہوں
سرِعام کہہ دی محبت کی بات
خطاوار ہوں میں سزا چاہتا ہوں
نہیں آرزوئے خوشی کوئی لیکن
غمِ زندگی کی دوا چاہتا ہوں
بہاروں کا بن کے کوئی گیت جاناں
رہو ساتھ میرے سدا ،چاہتا ہوں
میں آوروں سے خود کو جدا چاہتا ہوں
جو محفل سے تیری اٹھاچاہتا ہوں
میں زخموں کو پھر سے ہرا چاہتا ہوں
" مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں"
جگر پتھروں کا پگھل جائے قاسم
اثر جو رکھے وہ دعا چاہتا ہوں Qasim Mahmood
نہیں کچھ میں اس کے سوا چاہتا ہوں
سرِعام کہہ دی محبت کی بات
خطاوار ہوں میں سزا چاہتا ہوں
نہیں آرزوئے خوشی کوئی لیکن
غمِ زندگی کی دوا چاہتا ہوں
بہاروں کا بن کے کوئی گیت جاناں
رہو ساتھ میرے سدا ،چاہتا ہوں
میں آوروں سے خود کو جدا چاہتا ہوں
جو محفل سے تیری اٹھاچاہتا ہوں
میں زخموں کو پھر سے ہرا چاہتا ہوں
" مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں"
جگر پتھروں کا پگھل جائے قاسم
اثر جو رکھے وہ دعا چاہتا ہوں Qasim Mahmood
عشق کی مسافت میں ، ہم کہاں نکل آۓ عشق کی مسافت میں ، ہم کہاں نکل آۓ
آسماں کی چاہت میں، ہم کہاں نکل آۓ
منزلوں سے بھی آگے، ایک اور منزل ہے
قربتوں کی ساعت میں، ہم کہاں نکل آۓ
فاصلوں کے صحرا میں،ظلمتوں کا دریا ہے
عہدِ نو کی فرصت میں، ہم کہاں نکل آۓ
چُپ جو سادھ لیتے ہم ، زندگی گُزر جاتی
بولنے کی عادت میں، ہم کہاں نکل آۓ
ایک ہم ہیں اور قاسم، دُور تک نہیں کوئی
اِس جنوں کی صورت میں ، ہم کہاں نکل آۓ
Qasim Baba
آسماں کی چاہت میں، ہم کہاں نکل آۓ
منزلوں سے بھی آگے، ایک اور منزل ہے
قربتوں کی ساعت میں، ہم کہاں نکل آۓ
فاصلوں کے صحرا میں،ظلمتوں کا دریا ہے
عہدِ نو کی فرصت میں، ہم کہاں نکل آۓ
چُپ جو سادھ لیتے ہم ، زندگی گُزر جاتی
بولنے کی عادت میں، ہم کہاں نکل آۓ
ایک ہم ہیں اور قاسم، دُور تک نہیں کوئی
اِس جنوں کی صورت میں ، ہم کہاں نکل آۓ
Qasim Baba
سب ر نجشیں بھُلا کر ، آؤ ایک ہو جائیں سب ر نجشیں بھُلا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
بُجھے دیے جلا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
وہ جو دُور بس رہے ہیں اُنھیں پاس لیکر آئیں
سب فاصلے مٹا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
دل کی کدورتوں کو محبت کا رنگ دے کر
یہ سفر حسیں بنا کر، آؤ ایک ہو جائیں
مل جائیں ابکے پھر تو ، ہونگے جدا کبھی نہ
کوئی گیت ایسا گا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
قاسم ہے بیگناہ، پھر بھی جھُک رہا ہے
کہہ دو کوئی اُن سے جا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
Qasim Baba
بُجھے دیے جلا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
وہ جو دُور بس رہے ہیں اُنھیں پاس لیکر آئیں
سب فاصلے مٹا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
دل کی کدورتوں کو محبت کا رنگ دے کر
یہ سفر حسیں بنا کر، آؤ ایک ہو جائیں
مل جائیں ابکے پھر تو ، ہونگے جدا کبھی نہ
کوئی گیت ایسا گا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
قاسم ہے بیگناہ، پھر بھی جھُک رہا ہے
کہہ دو کوئی اُن سے جا کر ، آؤ ایک ہو جائیں
Qasim Baba
منصف کا اِیماں بِکتا ہے منصف کا اِیماں بِکتا ہے
حاکم کا پیماں بِکتا ہے
ہم ایسے شہر کے باسی ہیں
جس شہر میں انساں بِکتا ہے
یہاں سچ کا کوئی مُول نہیں
یہاں جھوٹ کا ساماں بِکتا ہے
اُس دیس میں ہریالی کیسی ؟
جس دیس کا دہقاں بِکتا ہے
یہ دنیا وہ بازار جہاں
جب چاک ہو داماں بِکتا ہے
پھولوں کی قدر وہ کیا جانیں
جہاں کاغذی گُلداں بِکتا ہے
ہر چیز بکِے قاسم اب تو
پتھر ہو یا انساں بِکتا ہے
Qasim Baba
حاکم کا پیماں بِکتا ہے
ہم ایسے شہر کے باسی ہیں
جس شہر میں انساں بِکتا ہے
یہاں سچ کا کوئی مُول نہیں
یہاں جھوٹ کا ساماں بِکتا ہے
اُس دیس میں ہریالی کیسی ؟
جس دیس کا دہقاں بِکتا ہے
یہ دنیا وہ بازار جہاں
جب چاک ہو داماں بِکتا ہے
پھولوں کی قدر وہ کیا جانیں
جہاں کاغذی گُلداں بِکتا ہے
ہر چیز بکِے قاسم اب تو
پتھر ہو یا انساں بِکتا ہے
Qasim Baba
دل لگی، مے کشی، عاشقی،اب نہیں دل لگی، مے کشی، عاشقی،اب نہیں
پہلے تھی جو کبھی زندگی اب نہیں
تھے کبھی راستے خوشبوؤں سے بھرے
سنگِ مر مر سے راہیں سجی اب نہیں
شہرِ خوُباں کی وہ دلکشی اب نہیں
وصل کی چاہ میں وہ خوشی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا رات ڈھلتی نہ تھی
اُس کی آنکھوں میں وہ روشنی اب نہیں
اُس کے ہاتھوں کی ریکھائیں کیسے پڑھیں
میرے پہلو میں وہ بیٹھتی اب نہیں
بَن کے مہماں صبا ٹھہرتی اب نہیں
میرے آنگن میں وہ چاندنی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا پھول کھِلتے نہ تھے
اُس کے چہرے پہ وہ تازگی اب نہیں
اب کے مل جاۓ شاید نشانِ وصل
نا خداؤں سے جو دوستی اب نہیں
نوجوانی کا قاسم عجب دور تھا
ہاں مگر زندگی، زندگی اب نہیں Qasim Baba
پہلے تھی جو کبھی زندگی اب نہیں
تھے کبھی راستے خوشبوؤں سے بھرے
سنگِ مر مر سے راہیں سجی اب نہیں
شہرِ خوُباں کی وہ دلکشی اب نہیں
وصل کی چاہ میں وہ خوشی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا رات ڈھلتی نہ تھی
اُس کی آنکھوں میں وہ روشنی اب نہیں
اُس کے ہاتھوں کی ریکھائیں کیسے پڑھیں
میرے پہلو میں وہ بیٹھتی اب نہیں
بَن کے مہماں صبا ٹھہرتی اب نہیں
میرے آنگن میں وہ چاندنی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا پھول کھِلتے نہ تھے
اُس کے چہرے پہ وہ تازگی اب نہیں
اب کے مل جاۓ شاید نشانِ وصل
نا خداؤں سے جو دوستی اب نہیں
نوجوانی کا قاسم عجب دور تھا
ہاں مگر زندگی، زندگی اب نہیں Qasim Baba
دل لگی،مے کشی،عاشقی،اب نہیں دل لگی،مے کشی،عاشقی،اب نہیں
پہلے تھی جو کبھی ذندگی،اب نہیں
تھےکبھی راستے خوشبووٴں سے بھرے
سنگِ مر مر سے راہیں سجی اب نہیں
شہرِ خوباں کی وە دل کشی اب نہیں
وصل کی چاە میں وە خوشی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا رات ڈھلتی نە تھی
اُس کی آنکھوں میں وە روشنی اب نہیں
اُس کے ہاتھوں کی ریکھا ئیں کیسے پڑھیں
میرے پہلو میں وە بیٹھتی اب نہیں
بن کے مہماں صبا ٹھہرتی اب نہیں
میرے آنگن میں وە چاندنی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا پھول کھلتے نە تھے
اُس کے چہرے پە وە تازگی اب نہیں
اب کے مل جاۓ شاید نشانِ وصل
ناخداوٴں سے جو دوستی اب نہیں
نوجوانی کا قاسم عجب دور تھا
ہاں مگر زندگی، زندگی اب نہیں Qasim Baba
پہلے تھی جو کبھی ذندگی،اب نہیں
تھےکبھی راستے خوشبووٴں سے بھرے
سنگِ مر مر سے راہیں سجی اب نہیں
شہرِ خوباں کی وە دل کشی اب نہیں
وصل کی چاە میں وە خوشی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا رات ڈھلتی نە تھی
اُس کی آنکھوں میں وە روشنی اب نہیں
اُس کے ہاتھوں کی ریکھا ئیں کیسے پڑھیں
میرے پہلو میں وە بیٹھتی اب نہیں
بن کے مہماں صبا ٹھہرتی اب نہیں
میرے آنگن میں وە چاندنی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا پھول کھلتے نە تھے
اُس کے چہرے پە وە تازگی اب نہیں
اب کے مل جاۓ شاید نشانِ وصل
ناخداوٴں سے جو دوستی اب نہیں
نوجوانی کا قاسم عجب دور تھا
ہاں مگر زندگی، زندگی اب نہیں Qasim Baba
وﮦ تو ھے سمندر ھم ساحل ٹھہرے وﮦ تو ھے سمندر ھم ساحل ٹھہرے
کب حق کے مقابل میں باطل ٹھہر
ھے کیسے بھلا ممکن اس سارے جہاں میں
کوئی تیری جفاوءں کے مقابل ٹھہرے
توڑا ھے کئی بار پرکھوں کی روایت کو
ھم اپنی روایات کے قاتل ٹھہرے
ملتا ھے اسے وﮦ ھی اس کارجہاں میں
جو شخص کہ جس چیز کے قابل ٹھہرے
پھر اس کو گرد راﮦ نے نڈھال کر دیا
ھم جو کسی نگاﮦ کی منزل ٹھہرے
ھو کیسے بھلا قاسم اب اس کا سامنا
ھم وحشتوں کے ساتھی وﮦ محفل ٹھہرے Qasim Baba
کب حق کے مقابل میں باطل ٹھہر
ھے کیسے بھلا ممکن اس سارے جہاں میں
کوئی تیری جفاوءں کے مقابل ٹھہرے
توڑا ھے کئی بار پرکھوں کی روایت کو
ھم اپنی روایات کے قاتل ٹھہرے
ملتا ھے اسے وﮦ ھی اس کارجہاں میں
جو شخص کہ جس چیز کے قابل ٹھہرے
پھر اس کو گرد راﮦ نے نڈھال کر دیا
ھم جو کسی نگاﮦ کی منزل ٹھہرے
ھو کیسے بھلا قاسم اب اس کا سامنا
ھم وحشتوں کے ساتھی وﮦ محفل ٹھہرے Qasim Baba
فرقتوں کے موسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو فرقتوں کے موسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
وحشتوں کے عالم میں٬ میں بھی ھُوں تم بھی ھو
ھجر کی مسافت ھےدرد مثلِ قاتل ھے
ایک ایسے ھی غم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
مرمریں سی راھیں ہوں ھمسفر محبت ھو
خواہشوں کے ریشم میں ٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
آرزوئے الفت میں ایک تم نہیں گھائل
تیری چشمِ پرنم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
تُو اگر پریشاں ھو درد مجھ کو ھوتا ھے
سچ ھے جسمِ قاسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو Qasim Baba
وحشتوں کے عالم میں٬ میں بھی ھُوں تم بھی ھو
ھجر کی مسافت ھےدرد مثلِ قاتل ھے
ایک ایسے ھی غم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
مرمریں سی راھیں ہوں ھمسفر محبت ھو
خواہشوں کے ریشم میں ٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
آرزوئے الفت میں ایک تم نہیں گھائل
تیری چشمِ پرنم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
تُو اگر پریشاں ھو درد مجھ کو ھوتا ھے
سچ ھے جسمِ قاسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو Qasim Baba
گزرے ھُوۓ لمحات سےڈرلگتا ھے گزرے ھُوۓ لمحات سےڈرلگتا ھے
مجھ کو میری خواہشات سےڈرلگتا ھے
شاید نہ کر سکوں میں اب اُس کا سامنا
مجھ کو میری اوقات سےڈرلگتا ھے
غیروں سے ہار جیت کی مجھ کو نہیں فکر
اپنوں سے ھُوٴی مات سے ڈر لگتا ھے
آیا ھوں تیرے پاس میں جاناں یە سوچ کر
تُو نے کہا تھا رات سے ڈر لگتا ھے
ھم تو محبتوں میں قاسم جنوں کے قاٴہل
ٹھرے ھُوے دن رات سے ڈر لگتا ھے Qasim Baba
مجھ کو میری خواہشات سےڈرلگتا ھے
شاید نہ کر سکوں میں اب اُس کا سامنا
مجھ کو میری اوقات سےڈرلگتا ھے
غیروں سے ہار جیت کی مجھ کو نہیں فکر
اپنوں سے ھُوٴی مات سے ڈر لگتا ھے
آیا ھوں تیرے پاس میں جاناں یە سوچ کر
تُو نے کہا تھا رات سے ڈر لگتا ھے
ھم تو محبتوں میں قاسم جنوں کے قاٴہل
ٹھرے ھُوے دن رات سے ڈر لگتا ھے Qasim Baba
اک شخص کا خیال تھا اک شخص کا خیال تھا
شب و روز کا یە حال تھا
کیوں ھو گٴے اُس سے جدا
اس کا مجھے ملال تھا
نە باعثِ عروج تھا
نە وجہ ٴ زوال تھا
لیکن نگاەِ یار میں
وە شخص بڑا کمال تھا
اُسے بھولنا تو اِک طرف
یە کہنا بھی محال تھا
مایوس ھُوں،فراق ھے
امید تھی، وصال تھا
ہر وقت اُس کی یاد تھی
قاسم عجب وە سال تھا Qasim baba
شب و روز کا یە حال تھا
کیوں ھو گٴے اُس سے جدا
اس کا مجھے ملال تھا
نە باعثِ عروج تھا
نە وجہ ٴ زوال تھا
لیکن نگاەِ یار میں
وە شخص بڑا کمال تھا
اُسے بھولنا تو اِک طرف
یە کہنا بھی محال تھا
مایوس ھُوں،فراق ھے
امید تھی، وصال تھا
ہر وقت اُس کی یاد تھی
قاسم عجب وە سال تھا Qasim baba
ھم کو تیرے حسن کا وە زمانہ یاد ھے ھم کو تیرے حسن کا وە زمانہ یاد ھے
بھول کر بھی تجھ کو جاں نە بھول پانا یاد ھے
وە عقیدت تھی جسے کہتے تھے سب دیوانگی
میرا ننگے پاوٴں تیرےشہر آنا یاد ھے
غم اُٹھائے جس نے دل پہ اور آە تک نہ کی
کیا تمھیں بھی اے حسیں وە دیوانە یاد ھے
وە صبح کو ایک ساتھ سورج نکلتے دیکھنا
اور پھر آوارگی میں دن بیتانا یاد ھے
جان لے نہ کوئی اپنے عشق کی ناکامیاں
دل میں چھپا کر درد کو مسکرانا یاد ھے
یاد ھے قاسم مجھے آوارگی کی داستاں
ھم جہاں ملتے تھے وە کھنڈر پرانا یاد ھے Qasim Baba
بھول کر بھی تجھ کو جاں نە بھول پانا یاد ھے
وە عقیدت تھی جسے کہتے تھے سب دیوانگی
میرا ننگے پاوٴں تیرےشہر آنا یاد ھے
غم اُٹھائے جس نے دل پہ اور آە تک نہ کی
کیا تمھیں بھی اے حسیں وە دیوانە یاد ھے
وە صبح کو ایک ساتھ سورج نکلتے دیکھنا
اور پھر آوارگی میں دن بیتانا یاد ھے
جان لے نہ کوئی اپنے عشق کی ناکامیاں
دل میں چھپا کر درد کو مسکرانا یاد ھے
یاد ھے قاسم مجھے آوارگی کی داستاں
ھم جہاں ملتے تھے وە کھنڈر پرانا یاد ھے Qasim Baba
آیا تھا میرے دل میں جو مہمان کی طرح آیا تھا میرے دل میں جو مہمان کی طرح
رخصت ہوا وہ شعلہ و طوفان کی طرح
کہتا ھے ہجر میں چھپی موجِ حیات ھے
غم بھی دیے ہیں اُس نے تو احسان کی طرح
وہ شخص جو کبھی میرا پرسانِ حال تھا
گزرا میرے قریب سے انجان کی طرح
اُس نے بھی اپنے عہد کو آخر بھلا دیا
رہتا تھا میرے دل میں جو ایمان کی طرح
کچھ خواب وقتِ رخصت بھولا تھا تیرے در پر
لوٹا دے میرے خواب میرے سامان کی طرح
قاسم رہا میں عمر بھر اُس کے ساتھ یوں
کمرے میں ایک کاغذی گلدان کی طرح Qasim baba
رخصت ہوا وہ شعلہ و طوفان کی طرح
کہتا ھے ہجر میں چھپی موجِ حیات ھے
غم بھی دیے ہیں اُس نے تو احسان کی طرح
وہ شخص جو کبھی میرا پرسانِ حال تھا
گزرا میرے قریب سے انجان کی طرح
اُس نے بھی اپنے عہد کو آخر بھلا دیا
رہتا تھا میرے دل میں جو ایمان کی طرح
کچھ خواب وقتِ رخصت بھولا تھا تیرے در پر
لوٹا دے میرے خواب میرے سامان کی طرح
قاسم رہا میں عمر بھر اُس کے ساتھ یوں
کمرے میں ایک کاغذی گلدان کی طرح Qasim baba
یە عشق ھے حقیقت٬کچھ بھی کہو اِسے یە عشق ھے حقیقت٬کچھ بھی کہو اِسے
ھے زیست کی علامت٬کچھ بھی کہو اِسے
کئی ایک خوبیاں ہیں پردیس میں مگر
ھے قیدِ بامشقت٬کچھ بھی کہو اِسے
وە مجھ سے روٹھنا تیرا٬بات بات پر
ھے باعثِ محبت٬کچھ بھی کہو اِسے
ھم آج کے مسلماں٬اسلام کے لیے
ہیں وجەٴ ندامت٬کچھ بھی کہو اِسے
ظالم کے سامنے عَلم حق کا بلند کرنا
ھے وقت کی ضرورت٬کچھ بھی کہو اِسے
قاسم جو چل پڑا ھے سر پەکفن کوباندھ
دراصل ھے بغاوت٬کچھ بھی کہو اِسے Qasim Baba
ھے زیست کی علامت٬کچھ بھی کہو اِسے
کئی ایک خوبیاں ہیں پردیس میں مگر
ھے قیدِ بامشقت٬کچھ بھی کہو اِسے
وە مجھ سے روٹھنا تیرا٬بات بات پر
ھے باعثِ محبت٬کچھ بھی کہو اِسے
ھم آج کے مسلماں٬اسلام کے لیے
ہیں وجەٴ ندامت٬کچھ بھی کہو اِسے
ظالم کے سامنے عَلم حق کا بلند کرنا
ھے وقت کی ضرورت٬کچھ بھی کہو اِسے
قاسم جو چل پڑا ھے سر پەکفن کوباندھ
دراصل ھے بغاوت٬کچھ بھی کہو اِسے Qasim Baba
رات ہے اندھی دن ھے کالا رات ہے اندھی دن ھے کالا
جب سے ملا ھے دیس نکالا
نفرت کے سب پوجنے والے
کوئی نہیں یہاں چاہنے والا
عمریں گزریں اندھیروں میں
صدیوں سے نە دیکھا اجالا
لوُٹتے ھیں وە جس کو چاہیں
کوٴی نہیں اُنھیں پوچھنے والا
کاش میرے حاکم کی اندھی
آنکھوں سے ہٹ جاۓ جالا
دیکھ سکے وە حال ملک کا
کیا ھُوا ، کیا ھونے والا
سب ھیں انساں پھر کیوں قاسم
کوئی ھے ادنیٰ ، کوئی ھے اعلیٰ Qasim Baba
جب سے ملا ھے دیس نکالا
نفرت کے سب پوجنے والے
کوئی نہیں یہاں چاہنے والا
عمریں گزریں اندھیروں میں
صدیوں سے نە دیکھا اجالا
لوُٹتے ھیں وە جس کو چاہیں
کوٴی نہیں اُنھیں پوچھنے والا
کاش میرے حاکم کی اندھی
آنکھوں سے ہٹ جاۓ جالا
دیکھ سکے وە حال ملک کا
کیا ھُوا ، کیا ھونے والا
سب ھیں انساں پھر کیوں قاسم
کوئی ھے ادنیٰ ، کوئی ھے اعلیٰ Qasim Baba
محبت خواب ھے شاید محبت خواب ھے شاید
گل نایاب ھے شاید
کرے رسوا زمانے میں
کوئی زہراب ھے شاید
محبت میں بدن نائو
لہو چناب ھے شاید
جہاں پر تھا وہی پر ہوں
کوئی گرداب ھے شاید
پیے جو بھی بیک جائے
شراب ناب ھے شاید
جسے پڑھ کر ھیں آنکھیں نم
وہ تیرا باب ھے شاید
کسی کے پاس جانے کو
یہ دل بیتاب ھے شاید
ڈھلی شب آئے گا ملنے
ابھی مہتاب ھے شاید
میری آنکھوں میں رہتا ھے
وہ صورت آب ھے شاید
دل نخچیر میں قاسم
غم احباب ھے شاید Qasim Baba
گل نایاب ھے شاید
کرے رسوا زمانے میں
کوئی زہراب ھے شاید
محبت میں بدن نائو
لہو چناب ھے شاید
جہاں پر تھا وہی پر ہوں
کوئی گرداب ھے شاید
پیے جو بھی بیک جائے
شراب ناب ھے شاید
جسے پڑھ کر ھیں آنکھیں نم
وہ تیرا باب ھے شاید
کسی کے پاس جانے کو
یہ دل بیتاب ھے شاید
ڈھلی شب آئے گا ملنے
ابھی مہتاب ھے شاید
میری آنکھوں میں رہتا ھے
وہ صورت آب ھے شاید
دل نخچیر میں قاسم
غم احباب ھے شاید Qasim Baba
دے گیا باغباں کو ہمیشہ کا غم دے گیا باغباں کو ہمیشہ کا غم
پھول کھلنے سےپہلے جو مرجھا گیا
بن کے خوشبو رہا ساتھ کچھ دیر وە
پھر چمن میں خزاوٴں کو بکھرا گیا
وصل کے ایک قطرے کے بدلے مجھے
وحشتوں کے سمندر وە دکھلا گیا
وقتِ رخصت وە جب میری باہوں میں تھا
درد کی آندھیوں سے میں ٹکرا گیا
خواب ہے خواب ہے اور کچھ بھی نہیں
زندگی کی حقیقت وە بتلا گیا
اُس کے قدموں کو چومے گی خُلدِبریں
راحتیں ذندگی کی جو ٹھکرا گیا
اُس کو خوشبو لکھوں یا لکھوں پھول میں
آسمان و زمیں کو جو مہکا گیا
مجھ کو جنت ملے گی تیرےنام کی
روزِ محشر مجھے جو پکارا گیا
خلد میں بس کمی تھی اے آدم تیری
اس لیے تجھ کو شاید بلایا گیا
لے گیا ساتھ اپنے وە میرا جہاں
کب وە دنیا سے قاسم ہے تنہا گیا Qasim Baba
پھول کھلنے سےپہلے جو مرجھا گیا
بن کے خوشبو رہا ساتھ کچھ دیر وە
پھر چمن میں خزاوٴں کو بکھرا گیا
وصل کے ایک قطرے کے بدلے مجھے
وحشتوں کے سمندر وە دکھلا گیا
وقتِ رخصت وە جب میری باہوں میں تھا
درد کی آندھیوں سے میں ٹکرا گیا
خواب ہے خواب ہے اور کچھ بھی نہیں
زندگی کی حقیقت وە بتلا گیا
اُس کے قدموں کو چومے گی خُلدِبریں
راحتیں ذندگی کی جو ٹھکرا گیا
اُس کو خوشبو لکھوں یا لکھوں پھول میں
آسمان و زمیں کو جو مہکا گیا
مجھ کو جنت ملے گی تیرےنام کی
روزِ محشر مجھے جو پکارا گیا
خلد میں بس کمی تھی اے آدم تیری
اس لیے تجھ کو شاید بلایا گیا
لے گیا ساتھ اپنے وە میرا جہاں
کب وە دنیا سے قاسم ہے تنہا گیا Qasim Baba
کس قدر نادان تھے ہم کس قدر نادان تھے ہم خواہشوں کے دور میں
چاہتوں کے خواب دیکھے نفرتوں کےدور میں
آسماں کو ہم نے جانا اِس زمیں کا چارہ گر
اور کچے گھر بنائے بارشوں کے دور میں
ہم مکیں تھے فرش کے اورآرزو تھی عرش کی
کھیلنے کو چاند مانگا حسرتوں کے دور میں
ساتھ کزرے ہیں ہمارے ماہ جبیں کے روز و شب
کیسے کیسے لطف اُٹھائے قربتوں کے دور میں
ایک تیرے عشق میں ہم نے پائے دو جہاں
تاجور خود کو ہی جانا غربتوں کے دور میں Qasim Baba
چاہتوں کے خواب دیکھے نفرتوں کےدور میں
آسماں کو ہم نے جانا اِس زمیں کا چارہ گر
اور کچے گھر بنائے بارشوں کے دور میں
ہم مکیں تھے فرش کے اورآرزو تھی عرش کی
کھیلنے کو چاند مانگا حسرتوں کے دور میں
ساتھ کزرے ہیں ہمارے ماہ جبیں کے روز و شب
کیسے کیسے لطف اُٹھائے قربتوں کے دور میں
ایک تیرے عشق میں ہم نے پائے دو جہاں
تاجور خود کو ہی جانا غربتوں کے دور میں Qasim Baba